امریکی فوجیوں نے ایکواڈور میں بدنام زمانہ میکسیکن کارٹیل سے وابستہ 30 سے زائد جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری میں مدد کی
کیٹو(ایکواڈور)، 25 ستمبر (ہ س)۔ ایکواڈور کے وزیر داخلہ جان ریمبرگ نے جمعرات کو کہا کہ امریکی فوجیوں نے میکسیکو کے بدنام زمانہ ’جالیسکو نیو جنریشن کارٹیل‘ (سی جے این جی) کی مقامی شاخ کو ختم کرنے اور اس سے وابستہ 30 سے زائد ارکان کو گرفتار کرنے میں م
US-Soldiers-Ecuador-Cartel


کیٹو(ایکواڈور)، 25 ستمبر (ہ س)۔ ایکواڈور کے وزیر داخلہ جان ریمبرگ نے جمعرات کو کہا کہ امریکی فوجیوں نے میکسیکو کے بدنام زمانہ ’جالیسکو نیو جنریشن کارٹیل‘ (سی جے این جی) کی مقامی شاخ کو ختم کرنے اور اس سے وابستہ 30 سے زائد ارکان کو گرفتار کرنے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے اتحادی ملک ایکواڈور نے لاطینی امریکہ میں منظم جرائم کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارروائی میں بھرپور تعاون کیا ہے۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایکواڈور کے وزیر داخلہ جان ریمبرگ نے ’ایکس‘ پر بتایا کہ جمعرات کی علی الصبح کیا گیا یہ آپریشن امریکی فوجیوں اور ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) کے ساتھ مل کر انجام دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سی جے این جی سے براہ راست تعلق رکھنے والے 30 سے زائد جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ گروہ دنیا کے سب سے بڑے کوکین پیدا کرنے والے ملک کولمبیا سے جنوب مغربی ایکواڈور کی بندرگاہوں کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک کوکین اسمگل کرنے میں ملوث تھا۔ ان کے مطابق کئی شہروں میں کیے گئے اس آپریشن میں ایکواڈور کے تقریباً 320 پولیس اہلکار اور امریکی سدرن کمانڈ کے 50 وردی پوش اہلکار شامل تھے۔ ریمبرگ نے آپریشن کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کیں، جن میں اہلکاروں کو چھاپے مارتے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایکواڈور میں جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی نے انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش پیدا کی ہے۔ یہ تنظیمیں طاقت کے مبینہ حد سے زیادہ استعمال، تشدد اور لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے واقعات پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ تاہم دائیں بازو کے صدر ڈینیئل نوبوا نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان خدشات کو مسترد کر دیا۔

نوبوا نے کہا، ”ہمیں منظم جرائم کے خلاف جنگ کے حوالے سے بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن منظم جرائم کے باعث ہونے والی اموات یا متاثرین کی تعداد پر بہت کم تشویش ظاہر کی جاتی ہے۔“

اس سال کے آغاز میں امریکی کمانڈوز نے ایکواڈور کے فوجیوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ آپریشن میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس مشن کا مقصد ملک کے ساحل پر ایک مبینہ ’نارکو ٹیررسٹ‘ تنظیم کے مشتبہ جرائم پیشہ ٹھکانے کو ختم کرنا تھا۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ چند ہی برسوں میں ایکواڈور جنوبی امریکہ کے محفوظ ترین ممالک میں شمار ہونے کے بجائے کوکین اسمگلنگ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں میکسیکو اور کولمبیا کے کارٹیل سے وابستہ گروہوں کا غلبہ ہے۔

جون 2025 میں ملک کے سب سے بڑے ڈرگ لارڈ ایڈولفو ماسیاس کی دوبارہ گرفتاری کے باوجود ایکواڈور میں جرائم پیشہ گروہ تشدد میں ملوث ہیں۔ ماسیاس ’لاس چونیرس‘ گینگ کا سربراہ ہے اور 2024 میں ایک انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل سے فرار ہو گیا تھا۔ جولائی 2025 میں ایکواڈور کی حکومت نے ماسیاس کو امریکہ بھیج دیا تھا۔ امریکہ میں اس کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور ہتھیاروں سے متعلق کئی الزامات ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande