رام بہادر رائے کی صحافتی زندگی اقدار اور لگن کی مثال: راج ناتھ سنگھ
نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو کہا کہ رام بہادر رائے کی صحافتی زندگی اقدار اور لگن کی ایک مثال ہے، جس سے آج کے نوجوانوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی ہیمنت شرما کی مرتب کردہ کتاب ’اسّی کے رائے صاحب‘ کی رسم اجرا
رام بہادر رائے کی صحافتی زندگی اقدار اور لگن کی مثال: راج ناتھ سنگھ


نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو کہا کہ رام بہادر رائے کی صحافتی زندگی اقدار اور لگن کی ایک مثال ہے، جس سے آج کے نوجوانوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی ہیمنت شرما کی مرتب کردہ کتاب ’اسّی کے رائے صاحب‘ کی رسم اجرا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے ہندی صحافت کی شاندار روایت اور اس کی اقدار کو یاد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندی صحافت کا آغاز ملک میں بیداری اور نشاة ثانیہ کی آواز کے طور پر ہوا تھا۔ اس نے صرف زبان کو تشکیل دینے کا کام نہیں کیا بلکہ ایک جدید، عملی، سادہ، آسان، جامع اور جمہوری معاشرے کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

وزیر دفاع نے یہاں ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ رسم اجرا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندی صحافت نے تعلیم اور خواندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کو انسانیت، مساوات، ایمانداری، جمہوریت، حقوق اور فرائض کا سبق بھی پڑھایا۔ صحافت کی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سچائی کی روشنائی کاغذ پر اتر کر لوگوں میں وفاداری، لگن اور انصاف کے بیج بو رہی ہے۔

موجودہ دور کی صحافت کا ذکر کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ کبھی کبھی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں صحافت اپنے ابتدائی اقدار، نظریات اور عزم سے دور تو نہیں ہوتی جا رہی۔ جب بھی ایسا شبہ پریشان کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ان کے سامنے رام بہادر رائے کی شخصیت کھڑی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 80 سالہ رام بہادر رائے نے ایک سنیاسی کی طرح صحافت کے عہد کو نبھایا ہے۔ انہوں نے معاشرے سے سیکھا بھی اور خود معاشرے کے لیے ایک مثال بھی بنے۔ ان کی صحافت کا موازنہ ہندوستانی روایت کی عظیم شخصیات سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رائے صاحب نے صحافت کی چادر کو کبیر کی طرح نبھایا، اظہار کی صلاحیت کو تلسی داس کی طرح استعمال کیا اور سچائی و خبر کو ہریش چندر کی طرح مضبوطی سے تھامے رکھا۔

انہوں نے کہا کہ رائے صاحب کی نظر ارجن کی طرح خبر پر مرکوز رہی اور کسی بھی طرح کی آرائش یا اثر و رسوخ انہیں اپنے صحافتی دھرم سے نہیں ہٹا سکا۔ ان کے لیے صحافت کبھی محض پیشہ نہیں رہی۔ یہ ایک مشن تھی، مشن ہے اور مشن ہی رہے گی۔

رام بہادر رائے کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ان کی صحافتی زندگی کو دیکھ کر اقدار کے حوالے سے اٹھنے والے تمام شکوک کے بادل خود بخود چھٹ جاتے ہیں۔ ان کے سامنے رام بہادر رائے کی شخصیت کا ایک عظیم پہاڑ نظر آتا ہے اور ان کا دل احترام سے جھک جاتا ہے۔

اس موقع پر مرکزی وزیر جنگلات و ماحولیات بھوپیندر یادو نے کہا کہ رام بہادر رائے ہندی صحافت کی ایک بڑی شناخت ہیں۔ انہوں نے زمینی سطح کی جدوجہد کو قلم بند کیا، ایمانداری سے لکھا اور سچائی کے ساتھ کھڑے رہے۔ یہ کتاب ان کی زندگی کے کئی پہلوو¿ں سے لوگوں کو روشناس کرائے گی۔

سینئر صحافی بنواری نے ہیمنت شرما کو اس مشکل کام کے لیے مبارکباد دی۔ بنواری نے کہا کہ رائے صاحب کو اپنی تعریف سننا پسند نہیں ہے۔ وہ اس کتاب کے حق میں بھی نہیں تھے، لیکن باصلاحیت لوگوں کا احترام ہونا چاہیے۔

اس موقع پر اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس کے صدر رام بہادر رائے نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سرسوتی گیان و بیان کی دیوی ہیں اور سچ نہ بولنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس پروگرام سے مکمل طور پر متفق نہیں ہیں، لیکن ہیمنت شرما اور مرکزی وزیر کے اصرار پر انہیں اس میں شریک ہونا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ ہیمنت شرما کے پنجرے کے پرندے بن گئے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزرا سے اقتدار کی مرکزیت ختم کرنے سے متعلق ہندوستانی آئین کی 73ویں اور 74ویں ترمیمی ایکٹ کا جائزہ لینے کی اپیل بھی کی۔

’اسّی کے رائے صاحب‘ نامی کتاب رام بہادر رائے کی 80 سالہ زندگی اور ان کے صحافتی سفر کو اجاگر کرتی ہے۔ کتاب کی تدوین ہیمنت شرما کے ساتھ منوج مشرا، سندیپ جوشی اور سنجیو کمار نے کی ہے۔ اس میں ملک کے معروف صحافیوں، سیاست دانوں اور مفکرین کے تاثرات، تجربات اور رائے صاحب سے متعلق واقعات شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande