بنگلہ دیش میں سابق پولیس افسر پر بغاوت کا الزام، گرفتار
ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، 25 ستمبر (ہ س)۔ بنگلہ دیش میں ڈھاکہ کینٹونمنٹ پولیس اسٹیشن کے سابق افسر انچارج (او سی) محمد رقیب الحسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق انہیں سوشل میڈیا پر ملک مخالف اور اشتعال انگیز بیانات پھیلانے کے الزام میں درج بغاوت ک
BD-X-police-officer-arrested


ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، 25 ستمبر (ہ س)۔ بنگلہ دیش میں ڈھاکہ کینٹونمنٹ پولیس اسٹیشن کے سابق افسر انچارج (او سی) محمد رقیب الحسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق انہیں سوشل میڈیا پر ملک مخالف اور اشتعال انگیز بیانات پھیلانے کے الزام میں درج بغاوت کے مقدمے میں جمعرات کو گرفتار کیا گیا۔

’ڈھاکہ ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق، پولیس کی ڈیٹیکٹو برانچ (ڈی بی) نے شام کو انہیں ڈھاکہ کے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور سات روزہ ریمانڈ کی درخواست کی۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) کے ایڈیشنل کمشنر (ڈی بی) محمد شفیق الاسلام نے بتایا کہ پولیس نے رقیب کے خلاف پہلے کینٹونمنٹ پولیس اسٹیشن میں بغاوت کا مقدمہ درج کیا اور اس کے بعد انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا۔

رپورٹ کے مطابق 16 ستمبر کو سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ سامنے آئی تھی۔ اس وقت رقیب کینٹونمنٹ پولیس اسٹیشن کے او سی کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ ریکارڈنگ میں انہیں شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی کے امکان، پولیس فورس کی طاقت اور اعلیٰ پولیس افسران کے سیاسی روابط پر تبصرہ کرتے ہوئے سنا گیا۔ انہوں نے پولیس کی تعیناتی میں پیسوں کے لین دین اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

آڈیو کے منظر عام پر آنے کے اگلے ہی روز رقیب کو کینٹونمنٹ پولیس اسٹیشن سے ہٹا دیا گیا اور انتظامی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی ایم پی ہیڈکوارٹر کے سینٹرل ریزرو آفس اور راجار باغ میں واقع ایڈمنسٹریشن ڈویژن سے منسلک کر دیا گیا۔ اس کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

پولیس حکام نے پہلے بتایا تھا کہ رقیب کو 17 ستمبر کی رات منٹو روڈ پر واقع ڈی بی دفتر لے جایا گیا تھا۔ تاہم اگلے روز ڈی بی چیف شفیق الاسلام نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں وہاں لے جایا گیا تھا۔ تقریباً ایک ہفتے تک رقیب کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

شفیق نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی نے بدھ کو ڈی ایم پی کمشنر کو اپنی رپورٹ پیش کی، جس کے بعد جمعرات کو بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔آڈیو کلپ میں رقیب کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ دسمبر میں شیخ حسینہ کی واپسی کی امید ہے اور اگر وہ واپس آتی ہیں تو پولیس کچھ نہیں کر پائے گی۔ انہوں نے سڑکوں پر تعینات پولیس کو ”انتہائی کمزور“ قرار دیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پولیس کے سینئر افسران بی این پی کی حمایت کرتے ہیں۔رقیب نے الزام عائد کیا کہ اہل افسران کو نظرانداز کرکے نااہل افسران کو تعینات کیا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande