
آئندہ 26 ستمبر کو زمین کے نسبتاً قریب آئے گا نیپچون، طاقتور دوربین سے مشاہدے کا موقع
امراوتی، 24 ستمبر (ہ س)۔ نظام شمسی کا سب سے دور واقع سیارہ نیپچون 26 ستمبر کو زمین کے نسبتاً قریب ہوگا۔ اس روز نیپچون سورج کے بالکل مخالف سمت میں دکھائی دے گا۔ علم فلکیات میں اس حالت کو مقابلہ یا تقابل کی کیفیت کہا جاتا ہے۔ اس دوران زمین اور متعلقہ سیارے کے درمیان فاصلہ اس کی معمول کی گردش کے مقابلے میں نسبتاً کم ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے ماہرین فلکیات اور شائقین کو نیپچون کا مشاہدہ کرنے کا بہتر موقع ملتا ہے۔ تاہم نیپچون کی روشنی انتہائی مدھم ہونے کے باعث اسے عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا اور اس کے لیے طاقتور دوربین کی ضرورت پڑے گی۔
26 ستمبر کو نیپچون شام کے وقت مشرقی افق سے طلوع ہوگا اور پوری رات آسمان میں موجود رہنے کے بعد صبح مغربی افق کی جانب غروب ہوگا۔ اس طرح شائقین کو رات کے بیشتر حصے میں اس دور ترین سیارے کا دوربین کے ذریعے مشاہدہ کرنے کا موقع ملے گا۔ طاقتور دوربین سے دیکھنے پر نیپچون ہلکے نیلگوں رنگ میں دکھائی دے سکتا ہے۔ اس کی نیلگوں ظاہری شکل کی بنیادی وجہ اس کے ماحول میں موجود میتھین گیس ہے، جو روشنی کے مخصوص حصوں کو جذب کرنے کے باعث سیارے کو نیلا رنگ دیتی ہے۔
نیپچون کو سورج کے گرد ایک مکمل چکر لگانے میں تقریباً 165 سال لگتے ہیں، جبکہ وہ اپنے محور کے گرد تقریباً 16 گھنٹے میں ایک گردش مکمل کرتا ہے۔ اس سیارے کی دریافت 13 ستمبر 1846 کو جرمن ماہر فلکیات یوہان گالے نے کی تھی۔ نیپچون کے اب تک 13 معلوم چاند دریافت کیے جاچکے ہیں۔ اس کا قطر تقریباً 48600 کلومیٹر ہے، جبکہ اس کے ماحول میں درجہ حرارت تقریباً منفی 214 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے، جس کے باعث یہ نظام شمسی کے انتہائی سرد سیاروں میں شمار ہوتا ہے۔
سورج سے نیپچون کا اوسط فاصلہ تقریباً 452 کروڑ کلومیٹر ہے، جو تقریباً 30.1 فلکیاتی اکائی کے برابر ہے۔ اس قدر زیادہ فاصلے کی وجہ سے نیپچون کا مشاہدہ عام فلکیاتی آلات سے آسان نہیں ہوتا۔ اس سیارے کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرنے میں خلائی تحقیق نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ 24 اگست 1989 کو بغیر انسان کے خلائی جہاز وایوجر 2 نے نیپچون کے قریب سے گزر کر سیارے اور اس کے ماحول سے متعلق اہم معلومات اور تصاویر زمین تک پہنچائی تھیں۔
ماہرین کے مطابق 26 ستمبر کی یہ فلکیاتی کیفیت نیپچون کو سمجھنے اور دوربین کے ذریعے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے خاص موقع فراہم کرے گی۔ اگرچہ یہ سیارہ پوری رات آسمان میں موجود رہے گا، لیکن اس کی انتہائی کم چمک کے باعث عام افراد کے لیے بغیر دوربین اسے تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو مناسب طاقت کی دوربین کے ذریعے مشاہدہ کرنا ہوگا۔ دوربین کے ذریعے نیپچون کو دیکھنے پر اس کی مدھم نیلگوں جھلک نظر آسکتی ہے۔
ماہرین فلکیات نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نیپچون کے اس فلکیاتی مقابلے کا انسانی زندگی پر کسی بھی طرح کا منفی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ ایک معمول کی فلکیاتی کیفیت ہے جو زمین اور نیپچون کی سورج کے گرد گردش کے نتیجے میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی ہے۔ اس سے انسانی صحت، روزمرہ زندگی یا زمینی ماحول پر کسی نقصان دہ اثر کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔
اس سے قبل 23 ستمبر 2025 کو بھی نیپچون اسی طرح مقابلے کی کیفیت میں آیا تھا۔ اس بارے میں مراٹھی سائنس پریشد کے صدر پروین گلہانے اور فلکیات کے مطالعہ سے وابستہ وجے گرولکر نے معلومات دی ہیں۔ ان کے مطابق 26 ستمبر کی فلکیاتی کیفیت شائقین کے لیے نیپچون کو دوربین کے ذریعے دیکھنے کا ایک اچھا موقع ہوگی، تاہم عام آنکھ سے اس سیارے کے مشاہدے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے