سیلاب کا پانی اترا مگر بے زبانوں کی مشکلات برقرار، چارے کی شدید قلت سے بھاگلپور میں دودھ کی پیداوار 40 فیصد تک گھٹی
بھاگلپور، 24 ستمبر (ہ س)۔ ضلع کے قریب 13 بلاکوں میں گنگا اور دیگر معاون ندیوں کے سیلاب کا پانی اگرچہ اب رفتہ رفتہ کم ہونے لگا ہے، لیکن سیلاب متاثرین اور مویشی پروروں کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ انسانوں کے لیے تو راحتی کیمپوں میں کھانے
جانوروں کی تصویر


بھاگلپور، 24 ستمبر (ہ س)۔ ضلع کے قریب 13 بلاکوں میں گنگا اور دیگر معاون ندیوں کے سیلاب کا پانی اگرچہ اب رفتہ رفتہ کم ہونے لگا ہے، لیکن سیلاب متاثرین اور مویشی پروروں کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ انسانوں کے لیے تو راحتی کیمپوں میں کھانے اور امداد کا انتظام کیا گیا ہے، مگر دیہی معیشت کی ریڑھ سمجھے جانے والے 60 ہزار سے زائد مویشی اس وقت چارے کے سنگین بحران سے دوچار ہیں۔

پیٹ بھر چارہ نہیں ملنے کی وجہ سے دودھ دینے والے جانوروں کے دودھ دینے کی صلاحیت میں 30 سے 50 فیصد تک کی بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے، جس کی وجہ سے مقامی بازاروں میں دودھ کی قیمتیں 10 سے 20 روپے فی کلو تک بڑھ گئی ہیں۔ گنگا کی طغیانی اور دیارا علاقوں میں طویل عرصے تک پانی بھرے رہنے کے سبب ہزاروں ایکڑ میں پھیلی مکئی کی فصلیں اور چراگاہیں پوری طرح زیرِ آب آ کر تباہ ہو گئی ہیں۔ سیلاب کے پانی کے باعث گھروں اور ڈیروں میں ذخیرہ کر کے رکھا گیا تقریباً 50 فیصد سوکھا چارہ بھی سڑ چکا ہے۔ دور دراز اور دیہی علاقوں میں کھیتوں میں پانی بھرا ہونے سے مویشی پروروں کے پاس ہرے چارے کا نام و نشان تک نہیں بچا ہے۔

دیارا اور سیلاب زدہ نشیبی علاقوں کے کئی گاوں کے مویشی پرور اپنے مویشیوں کے ہمراہ گھر بار چھوڑ کر سڑکوں کے کنارے یا اونچی جگہوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ شنکر پور دیارا اور چونیا دیارا کے مویشی پروروں کا کہنا ہے کہ جو بھوسا پہلے 500 سے 600 روپے فی کوئنٹل ملتا تھا، وہ اب کالا بازاری کی وجہ سے 800 سے 1200 روپے فی کوئنٹل تک فروخت ہو رہا ہے۔ معاشی تنگی کے سبب مویشی پرور مہنگا چارہ خریدنے سے قاصر ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ مویشیوں کا پیٹ بھرنے کے لیے مویشی پرور انہیں بھاگلپور شہر کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کھلا چھوڑنے پر مجبور ہیں، جس سے شہر میں جگہ جگہ جام کی صورتِ حال بھی پیدا ہو رہی ہے۔

مویشی پرور خود صبح ستو باندھ کر چارے کی تلاش میں دور دراز کے علاقوں میں بھٹکتے نظر آ رہے ہیں۔ راحتی کیمپ اور میڈیکل کیمپ جاری ہیں۔ محکمۂ حیاتی وسائل اور ضلع انتظامیہ مسلسل اس بحران پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ محکمۂ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے زیرِ انتظام پولی ٹیکنک کالج (براری)، ٹی این بی کالج اور بال نکیتن جیسے اہم راحتی کیمپوں میں بے گھر مویشیوں کے لیے 24×7 طبی کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بڑے جانوروں کے لیے 6 کلو، چھوٹے جانوروں کے لیے 3 کلو اور بکریوں کے لیے 1 کلو یومیہ کے حساب سے سوکھا چارہ تقسیم کیا جا رہا ہے۔ سیلاب کے آلودہ پانی سے مویشیوں میں پھیلنے والے انفیکشن اور کمزوری کو روکنے کے لیے بھاگلپور ڈیری اور محکمۂ اینمل ہسبنڈری کے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے مفت ویٹرنری میڈیکل کیمپ چلائے جا رہے ہیں، جہاں جانوروں کا طبی معائنہ کر کے پیٹ کے کیڑوں کی دوائیں اور ضروری سپلیمنٹس تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

راحتی کیمپوں میں مقیم مویشی پروروں کا الزام ہے کہ جانوروں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے سرکاری سطح پر ملنے والا چارہ ناکافی ہے۔ دور دراز کے سیلاب متاثرہ گاوں کے اندرونی حصوں تک ابھی بھی مناسب کشتیوں کے ذریعے بھوسا نہیں پہنچ پا رہا ہے۔ مویشی پروروں نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کے ہر گاوں میں جنگی پیمانے پر سوکھا اور ہرا چارہ مہیا کرایا جائے، تاکہ اس بے زبان آبادی کو فاقہ کشی اور مہلک بیماریوں سے بچایا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande