فضائیہ کے لیے 811 کروڑ روپے میں 160 سیٹلائٹ اسمارٹ اینٹی ایئرفیلڈ ہتھیار خریدے جائیں گے
نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س)۔ ’آتم نربھر بھارت‘ مہم کو فروغ دیتے ہوئے وزارت دفاع نے بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ (بی ڈی ایل) کے ساتھ 810.79 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستانی فضائیہ کے لیے 160 سیٹلائٹ گائیڈیڈ اسمارٹ اینٹی ایئرفیلڈ ویپنز (ای
فضائیہ کے لیے 811 کروڑ روپے میں 160 سیٹلائٹ اسمارٹ اینٹی ایئرفیلڈ ہتھیار خریدے جائیں گے


نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س)۔ ’آتم نربھر بھارت‘ مہم کو فروغ دیتے ہوئے وزارت دفاع نے بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ (بی ڈی ایل) کے ساتھ 810.79 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستانی فضائیہ کے لیے 160 سیٹلائٹ گائیڈیڈ اسمارٹ اینٹی ایئرفیلڈ ویپنز (ایس اے اے ڈبلیو) اور متعلقہ آلات خریدے جائیں گے۔ معاہدے پر بدھ کے روز نئی دہلی میں دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔

ان ہتھیاروں کی مار تقریباً 100 کلومیٹر تک ہے، جس کی مدد سے ہندوستانی لڑاکا طیارے دشمن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر محفوظ فاصلے سے اس کے اہم فضائی ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکیں گے۔

اسمارٹ اینٹی ایئرفیلڈ ویپن ہندوستان کا جدید سیٹلائٹ گائیڈیڈ اور انتہائی درست نشانہ لگانے والا بم ہے، جسے بنیادی طور پر دشمن کے ہوائی اڈوں اور رن وے کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کے ریسرچ سینٹر امارت (آر سی آئی) نے ملک میں ہی تیار کیا ہے۔

یہ ہتھیار سیٹلائٹ نیویگیشن اور الیکٹرو آپٹیکل سیکر ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس کی وجہ سے دن یا رات کسی بھی وقت انتہائی درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 125 کلوگرام ہے۔ کم وزن کی وجہ سے ایک ہی لڑاکا طیارے، جیسے جیگوار یا سکھوئی-30، سے ایسے کئی ہتھیار لے جائے جا سکتے ہیں۔

ڈی آر ڈی او کے مطابق اس ہتھیار کا استعمال دشمن کے رن وے، بنکر، طیاروں کے ہینگر، ریڈار ہب اور دیگر مضبوط فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ اور ڈی آر ڈی او نے سکھوئی-30 اور جیگوار لڑاکا طیاروں سے اس کے متعدد کامیاب تجربات کیے ہیں۔اس کے دو ورژن کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ ان میں ایک سیٹلائٹ گائیڈنس پر کام کرتا ہے، جبکہ دوسرے میں انفراریڈ سیکر ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔ یہ ہوا سے زمین پر مار کرنے والا پریسیژن گائیڈیڈ گلائیڈ بم ہے، جسے جیگوار، ہاک اور سکھوئی-30 ایم کے آئی جیسے لڑاکا طیاروں سے داغا جا سکتا ہے۔

ملک میں ڈیزائن اور تیار کیے گئے اس نظام میں تقریباً 60 فیصد مقامی اجزا ہوں گے۔ فضائیہ کو ان ہتھیاروں کی فراہمی 2027-28 اور 2028-29 کے درمیان کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق اس کی شمولیت سے فضائیہ کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور ملک کی دفاعی تیاری مزید مضبوط ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande