
نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س):۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے گوہاٹی علاقائی دفتر-1 نے انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے)، 2002 کے تحت 54 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا اندازاً 37.064 کلوگرام سونا عارضی طور پر ضبط کیا ہے۔
ضبط کیے گئے سونے میں بڑے سائز کی 29 سونے کی چھڑیں اور چھوٹے سائز کے سونے کے 50 ٹکڑے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 13 گرام وزنی چاندی جیسے رنگ کی دھات کے ٹکڑے بھی ضبط کیے گئے ہیں۔
ای ڈی کے مطابق یہ کارروائی اکشے پرشورام بانسوڈے اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف درج معاملے میں کی گئی ہے۔ آسام پولیس نے 30 جون کو گوہاٹی کے کھرگھولی ہاتیسِل علاقے میں اکشے پرشورام بانسوڈے کے قبضے سے یہ سونا برآمد کیا تھا۔ فی الحال سونا گوہاٹی میں واقع کامروپ میٹرو خزانے کی محفوظ تحویل میں رکھا گیا ہے۔
ای ڈی نے آسام کے کامروپ میٹرو ضلع کے لتاسِلا تھانے میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پر پی ایم ایل اے کے تحت تحقیقات شروع کی تھیں۔ یہ معاملہ اسمگل کیے گئے سونے کی منظم غیر قانونی نقل و حمل، اسے چھپانے اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ اکشے پرشورام بانسوڈے مبینہ طور پر کئی برسوں سے ایک نامعلوم شخص کی ہدایت پر ملک بھر میں سونا منتقل کر رہا تھا۔ ای ڈی کے مطابق یہ نامعلوم شخص کورئیرز کے ایک منظم گروہ کو کنٹرول کرتا تھا اور سونے کی نقل و حمل کے لیے ایک خفیہ شناختی نظام استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے عوض بانسوڈے کو ہر ماہ مقررہ معاوضہ دیا جاتا تھا۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، برآمد کیا گیا سونا میانمار اور متحدہ عرب امارات کے راستے بھارت میں اسمگل کرکے لائے جانے کا الزام ہے۔ اس کے بعد ادائیگی حوالہ کے ذریعے کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ جس شخص کے قبضے سے سونا برآمد ہوا تھا اور جس شخص نے اس پر ملکیت کا دعویٰ کیا تھا، دونوں ہی سونے کی قانونی خرید یا درآمد سے متعلق کوئی کسٹمز کلیئرنس سرٹیفکیٹ، درآمدی دستاویز یا دیگر قانونی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔
ای ڈی نے کہا ہے کہ معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ