
نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو دہلی حکومت اور دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کو ہدایت دی کہ وہ اپنے بیڑے میں شامل تمام بسوں کا دہلی کی سڑکوں پر باقاعدہ آپریشن یقینی بنائیں، تاکہ عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب ہوسکے۔چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے اس کے ساتھ ہی اس مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کو نمٹا دیا، جس میں قومی راجدھانی میں ڈی ٹی سی اور پبلک بس خدمات بحال کرنے اور انہیں مناسب طریقے سے چلانے کے لیے حکام کو فوری ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔یہ عرضی وکیل امی سسودیا کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ عرضی میں ڈی ٹی سی ملازمین کی جاری ہڑتال کے باعث مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ پبلک بسوں کے آپریشن سے وابستہ ڈرائیور، کنڈکٹر اور دیگر ملازمین تنخواہوں اور دیگر سہولیات میں اضافے کے مطالبے کو لے کر 15 ستمبر سے ہڑتال پر ہیں۔عرضی میں دہلی میں ڈی ٹی سی بس خدمات فوری طور پر بحال کرنے، ان کی دیکھ بھال اور مستقبل میں بلا رکاوٹ آپریشن جاری رکھنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔عرضی گزار نے کہا تھا کہ خواتین کے لیے مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں آمدورفت کے لیے مہنگے متبادل ذرائع استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔عرضی میں مزید کہا گیا تھا کہ ہڑتال کا اثر دہلی-این سی آر کے لاکھوں رہائشیوں، طلبہ، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، تنخواہ دار ملازمین، بزرگوں، معذور افراد، مریضوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے مسافروں پر پڑ رہا ہے، جو سستے عوامی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ڈی ٹی سی بسوں کی ہڑتال کے باعث مسافروں کا اضافی دباؤ دہلی میٹرو پر پڑ رہا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan