نیپال میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ابتدائی اعدادوشمار جاری، 7570 نجی مکانات تباہ، 30 ارب روپے کا سڑک انفراسٹرکچر تباہ
کاٹھمنڈو، 2 ستمبر (ہ س) ۔ نیپال کے بھوٹیکوشی اور ترشولی ندیوں میں آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے نیپال کے پانچ اضلاع میں 7,570 نجی مکانات کو نقصان پہنچنے کا ابتدائی اندازہ لگایا گیا ہے۔شہری ترقی اور تعمیرات کے محکمہ کی جانب سے جمع کی گئی تفصیلات کے مط
Nepal-Flood-Damage-Statistics-


کاٹھمنڈو، 2 ستمبر (ہ س) ۔ نیپال کے بھوٹیکوشی اور ترشولی ندیوں میں آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے نیپال کے پانچ اضلاع میں 7,570 نجی مکانات کو نقصان پہنچنے کا ابتدائی اندازہ لگایا گیا ہے۔شہری ترقی اور تعمیرات کے محکمہ کی جانب سے جمع کی گئی تفصیلات کے مطابق رسووا، نواکوٹ، دھادنگ، گورکھا اور چتون میں سیلاب سے بڑی تعداد میں نجی مکانات متاثر ہوئے ہیں۔

محکمہ کے مطابق 1,253 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ 6,317 مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مکانات کی حالت ایسی ہے کہ انہیں فوری طور پر مرمت اور رہنے کے قابل نہیں بنایا جا سکتا۔ ان مکانوں کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا۔

محکمہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے پانچ اضلاع میں 7,570 نجی مکانات کے نقصان پہنچنے کی ابتدائی تفصیلات موصول ہوئی ہیں ۔ محکمہ کی ٹیموں نے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ صرف نجی گھروں کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 17 ارب 31 کروڑ نیپالی روپے لگایا گیا ہے۔

سیلاب سے 45 سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ان عمارتوں کو تقریباً 4.5 ارب نیپالی روپے کے نقصان کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔

محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل رویندر بوہرا کے مطابق رسووا میں کل 1,779 مکانات کو نقصان پہنچا جس سے 5 ارب 7کروڑ 98لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔رسووا ضلع کے گوسائیں کنڈ میں 1,043 مکانات کو نقصان پہنچا، جن سے 2 ارب 49کروڑ 86لاکھ روپے کا نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا۔ اسی طرح، کالیکا میں 112 مکانات تباہ ہوئے، جس سے 18کروڑ 48لاکھ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

رسووا ضلع کے اماچوڈنگمو میں57گھر- 9 کروڑ روپے 40لاکھ روپے اور اتر گیا میں 567 مکانات کا نام ونشان مٹ گیا ہے جس سے 2 ارب 30کروڑ 23 لاکھ روپے کا نقصان ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

نواکوٹ میں، 3,977 مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور کل نقصان9ارب 22کروڑ 62لاکھ روپے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس ضلع کے بیل کوٹ گڑھی میں 212 مکانات تباہ ہوئے ہیں، جس سے 60 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح، ویدور میونسپلٹی میں 3,026 مکانات کو نقصان پہنچا، جسسے ہوئے نقصان کاتخمینہ 7ارب 17کروڑ 58لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔

ضلع نواکوٹ کے علاقے کشاپنگ میں 696 گھر پانی میں بہہ گئے جس سے 1 ارب 30 کروڑ 24 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ ضلع کی تارکیشور میونسپلٹی میں 43 مکانات تباہ ہوگئے جس سے 14 کروڑ 79 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ دھادنگ میں کل 1451 مکانات کو نقصان پہنچا۔ یہاں نقصان تقریباً 2 ارب 40 کروڑ 95 لاکھ روپے کا نقصان ہونے کا اندازہ ہے۔ اس ضلع کے بینی گھاٹ رورنگ میں 1037 مکانات کی تباہی سے 1 ارب 72 کروڑ 64 لاکھ روپے کا نقصان بتایا جاتا ہے جب کہ گجوری میں 107 مکانات کی تباہی سے 17 کروڑ 65 لاکھ روپے کا نقصان بتایا جاتا ہے۔

اسی طرح گلچھی میں 79 مکانات تباہ ہوئے، جس کے نتیجے میں 13.3کروڑ روپے اور سدھلیک میں 228 مکانات کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں 37.62کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ گورکھا میں 263 مکانات کو نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں 43 کروڑ 39لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ اس میں گنڈکی کے علاقے میں 248 اور شہید لکھن میں 15 گھر شامل ہیں۔ وہیں، چتون کے اچھاکامنا میں 100 مکانات کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں تقریباً 16.5 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

سیلاب نے نیپال کے سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ محکمہ سڑک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وجے کے مطابق قومی سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 30 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ 82 کلو میٹر طویل گلچھی-سیافروبنسی-رسووا گڑھی سڑک کا تقریباً 40 کلومیٹر حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ پرتھوی ہائی وے کے کرشن بھیر سیکشن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

سیلاب سے 31 پل بہہ گئے جبکہ تین کو نقصان پہنچا۔ محکمہ روڈ کے مطابق، ان سڑکوں اور پلوں کی تعمیر نو پر تقریباً 50 ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے۔ رسوا اور نواکوٹ میں 53 سسپنشن پل بھی سیلاب سے متاثر ہوئے۔ ان میں سے 33 پل مکمل طور پر بہہ گئے جب کہ 20 پلوں کو قابل مرمت سمجھا جاتا ہے۔

مقامی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے محکمہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق مقامی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 1.25 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ محکمہ نے بتایا کہ فوری رابطہ بحال کرنے کے لیے کئی مقامات پر روپ وے لگانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس طرح کے انتظامات رسوا میں تین اور نواکوٹ میں دو مقامات پر کیے جانے کی توقع ہے۔ نواکوٹ کے وِدور، بیل کوٹ گڑھی اور اندراچور میں روپ وے کی تنصیبات پہلے ہی مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ رسووا میں تیاریاں جاری ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دیہی سڑکوں کی مرمت پر تقریباً 40 کروڑ روپے، جھولنگے پلوں کی مرمت پر 15 کروڑ روپے اور نئے روپ وے کی تعمیر نو پر تقریباً 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

سیلاب سے رسوا، نواکوٹ، گورکھا اور دھادنگ میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ پینے کے پانی اور ڈھلوان کے انتظام کے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل کمل راج شریسٹھ کے مطابق رسووا میں پینے کے پانی کے 10 ذخائر کو نقصان پہنچا ہے، جب کہ نواکوٹ میں 111، دھادنگ میں 7 اور گورکھا میں 24 کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، پینے کے پانی کے مختلف انفراسٹرکچر کو تقریباً 64 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ سیویج اور صاف صفائی سے متعلق ڈھانچوں کو بھی تقریباً 29کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande