
جموں, 02 ستمبر (ہ س): جموں و کشمیر میں پنچایتوں اور ضلع ترقیاتی کونسلوں (ڈی ڈی سی) کے انتخابات ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہونے کا امکان ہے۔سٹیٹ الیکشن کمیشن (ایس ای سی) کی جانب سے اگست کے آخر تک حکومت سے انتخابی عمل شروع کرنے سے متعلق فیصلہ طلب کیا گیا تھا، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے کمیشن کو باضابطہ ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں اکتوبر نومبر 2026 کے دوران انتخابات کرانا مشکل دکھائی دے رہا ہے، جبکہ اپریل مئی 2027 کو انتخابات کے لیے ممکنہ وقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ الیکشن کمشنر شانت منو کے مطابق انتخابات کرانے کے لیے کمیشن کو تقریباً 30 سے 45 دن کی تیاری درکار ہوتی ہے۔ اس میں پولنگ اسٹیشنوں کو حتمی شکل دینا، انتخابی عملے کی تعیناتی، سیکورٹی انتظامات، بیلٹ پیپرز، بیلٹ باکس اور دیگر انتخابی سامان کا انتظام شامل ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے او بی سی ریزرویشن سے متعلق فیصلہ بھی ابھی باقی ہے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) جنک راج کوتوال کی سربراہی میں قائم او بی سی کمیشن نے فروری 2025 میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے رپورٹ کی سفارشات کے نفاذ کے سلسلے میں حکومت سے وضاحت بھی طلب کی ہے۔
او بی سی ریزرویشن کے علاوہ خواتین، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے نشستوں کی ریزرویشن اور روٹیشن، انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور دیگر قانونی تقاضے بھی مکمل کیے جانے ہیں۔ یکم اکتوبر کوالیفائنگ تاریخ کے مطابق 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نئے ووٹروں کو بھی انتخابی فہرستوں میں شامل کیا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں پنچایتوں اور بلاک ڈیولپمنٹ کونسلوں (بی ڈی سی) کی مدت 9 جنوری 2024 کو ختم ہو چکی ہے، جبکہ میونسپل اداروں کی مدت اکتوبر نومبر 2023 میں مکمل ہوئی تھی۔ ضلع ترقیاتی کونسلوں کی پانچ سالہ مدت بھی 24 فروری 2026 کو ختم ہو گئی ہے۔
بی ڈی سی انتخابات بھی پنچایت انتخابات سے براہ راست منسلک ہیں، کیونکہ بی ڈی سی چیئرمینوں کا انتخاب منتخب پنچایتی ارکان کرتے ہیں۔ اس لیے پنچایت انتخابات کے انعقاد کے بغیر بی ڈی سی انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے پہلے پنچایت اور ڈی ڈی سی انتخابات کرانے اور اس کے بعد میونسپل اداروں اور بی ڈی سی کے انتخابات کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اب تمام نظریں حکومت کے فیصلے اور ریاستی الیکشن کمیشن کو جاری کی جانے والی ہدایات پر مرکوز ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر