انکت شرما قتل معاملہ : طاہر حسین کی عمر قید کو چیلنج کرنے والی عرضی پر ہائی کورٹ کا دہلی پولیس کو نوٹس
نئی دہلی، 2 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کے لئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا کو چیلنج کرنے والی طاہر حسین کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس
DL-HC-Ankit-Murder-Notices-Police-Tahir


نئی دہلی، 2 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کے لئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا کو چیلنج کرنے والی طاہر حسین کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے عرضی پر اگلی سماعت 2 دسمبر کو کرنے کا حکم دیا۔

گزشتہ31 جولائی کوکڑکڑڈوما کورٹ نے اس معاملے میں طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔کڑکڑڈوما کورٹ نے چھ دیگر ملزمان کو بری کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ عدالت نے دہلی پولیس کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ مجرموں کا پھانسی کی سزا دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ قصورواروں میں اصلاح کی گنجائش ہے۔

عدالت نے 13 جولائی کوکیس کے تمام ملزمان کوقصورورا قرار دیا تھا۔ عدالت نے جن ملزمیں کو قصوروار قرار دیا، ان میں ناظم، قاسم، انس اور جاوید شامل ہیں۔ عدالت نے جن ملزمان کو بری کیا ان میں حسین عرف ملاجی عرف سلمان، میر خان، فیروز، جاوید، گلفام، شعیب عالم عرف بوبی اور منتظم عرف موسیٰ شامل ہیں۔

دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 3 جون 2020 کو اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ کرائم برانچ کی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ 24 اور 25 فروری 2020 کو طاہر حسین نے اپنے گھر اور چاند باغ پلیا کے قریب مسجد سے ایک ہجوم کی قیادت کی اور اسے فرقہ وارانہ شکل دی۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ انکت شرما کے قتل کی سازش رچی گئی تھی۔ انکت شرما کو طاہر حسین کی قیادت میں ایک ہجوم نے خاص طور پر نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ کھجوری خاص کے علاقے میں طاہر حسین کے گھر کے باہر پیش آیا۔ شرما کے قتل کے بعد ہجوم نے ان کی لاش کو نالے میں پھینک دیا۔

پولیس کے مطابق کچھ لوگ لاش کو نالے میں پھینک رہے تھے۔ انکت شرما کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹروں نے پایا تھا کہ تیز دھار والے ہتھیار کے 51 نشان ہیں ۔ طاہر نے ہی چاند باغ علاقے میں ہجوم کومشتعل کیا۔ چارج شیٹ میں طاہر حسین کو ماسٹر مائنڈ بتایا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے انکت کے والد کے بیان کی بنیاد پر طاہر حسین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande