
دہرادون، 19 ستمبر(ہ س)۔ اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقوں کے وہ گاوں جہاں کبھی گھروں پر تالے پڑے رہتے تھے، اب سیاحوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔ روزگار کی تلاش میں گاوں سے باہر جانے والے لوگوں کی واپسی اور مقامی نوجوانوں و خواتین کے ہوم اسٹے کاروبار سے وابستہ ہونے کے ساتھ دیہی سیاحت کو نئی سمت مل رہی ہے۔ سرکاری منصوبوں کے ذریعے ہوم اسٹے کو خود روزگار سے جوڑنے کی کوششوں کا اثر اب گاؤں میں نمایاں طور پر دکھائی دینے لگا ہے۔ریاستی حکومت کے مطابق، اتراکھنڈ میں تقریباً 6,500 تارکینِ وطن اپنے گاؤں واپس لوٹے ہیں۔ ان میں سے 22 فیصد سے زائد افراد نے ہوم اسٹے کے کاروبار کو اپنایا ہے۔ وہیں، پوری ریاست میں 5,000 سے زائد ہوم اسٹے چلائے جانے کا اندازہ ہے۔ اس سے سیاحت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر روزگار اور آمدنی کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ہوم اسٹے کو فروغ دینے کے لیے چلائی جا رہی دین دیال اپادھیائے ہوم اسٹے ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت گزشتہ چار برسوں میں 537 مستحقین کو 79 کروڑ 28 لاکھ 18 ہزار روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں منصوبے کی لاگت کا 50 فیصد، زیادہ سے زیادہ 15 لاکھ روپے، جبکہ میدانی علاقوں میں 25 فیصد، زیادہ سے زیادہ 7.50 لاکھ روپے تک گرانٹ دینے کا انتظام ہے۔اس اسکیم کا مقصد صرف سیاحوں کے قیام کی سہولت میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ گاؤں کی معیشت کو سیاحت سے جوڑنا بھی ہے۔ ہوم اسٹے چلانے والے سیاحوں کو مقامی کھانوں، ثقافت اور طرز زندگی سے روشناس کراتے ہیں، جس کے باعث سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے مقامی سطح پر برقرار رہنے کے امکانات بڑھتے ہیں۔رودرپریاگ ضلع کا ساری گاو¿ں ہوم اسٹے پر مبنی دیہی سیاحت کے امکانات کی ایک مثال ہے۔ گاؤں میں 40 سے زائد ہوم اسٹے چل رہے ہیں۔ یہاں پہنچنے والے ٹریکرز اور سیاحوں کی وجہ سے مقامی کاروبار کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ہوم اسٹے کے پھیلاو سے دیہی علاقوں میں کریانہ، ٹرانسپورٹ، مقامی مصنوعات، کھانے پینے اور گائیڈ جیسی سرگرمیوں کے لیے بھی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس طرح ایک ہوم اسٹے محض ایک خاندان کی آمدنی کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ آس پاس کی اقتصادی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔اترکاشی ضلع کا جادونگ گاوں دیہی سیاحت کے ساتھ سرحدی علاقوں کو دوبارہ آباد کرنے کی پالیسی کی ایک الگ مثال پیش کر رہا ہے۔ ہندوستان-چین سرحد کے قریب واقع اس گاو¿ں کو ہوم اسٹے کلسٹر کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ یہاں چھ ہوم اسٹے کی تعمیر آخری مرحلے میں ہے۔
1962 کی ہندوستان-چین جنگ کے دوران تزویراتی وجوہات کی بنا پر فوج نے نیلنگ اور جادونگ گاو¿ں کو خالی کرا لیا تھا۔ اب دونوں گاوں مرکزی حکومت کے وائبرنٹ ولیجز پروگرام میں شامل ہیں۔ ہوم اسٹے اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے ان سرحدی گاو¿ں میں سیاحوں کی آمدورفت بڑھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔’میری یوجنا، میری سرکار‘ پروگرام کے تحت ٹریکنگ ٹریکشن سینٹر ہوم اسٹے گرانٹ اسکیم بھی نافذ کی گئی ہے۔ اس کے تحت گزشتہ چار برسوں میں 258 اہل افراد کو فائدہ پہنچایا جا چکا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ٹریکنگ والے علاقوں میں سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ مقامی لوگوں کو سیاحتی سرگرمیوں سے براہِ راست جوڑنا ہے۔اتراکھنڈ میں بڑی تعداد میں ایسے ٹریکنگ اور پہاڑی سیاحتی مقامات موجود ہیں جہاں بڑے ہوٹلوں یا ریزورٹس کے بجائے مقامی گھروں میں قیام سیاحوں کو ایک مختلف تجربہ فراہم کرتا ہے۔ ایسے علاقوں میں ہوم اسٹے دیہی معیشت کے لیے ایک اہم کڑی ثابت ہو سکتے ہیں۔
دین دیال اپادھیائے ہوم اسٹے ڈیولپمنٹ اسکیم میونسپل کارپوریشن اور میونسپلٹی کے علاقوں کو چھوڑ کر پوری ریاست میں نافذ ہے۔ صرف اتراکھنڈ کے مستقل باشندے ہی اس اسکیم کے اہل ہیں۔ ہوم اسٹے کے لیے نئے مکان کی تعمیر یا پرانے مکان کی تزئین و مرمت کے بعد اسے ٹورزم ڈیولپمنٹ کونسل میں رجسٹرڈ کرانا لازمی ہے۔اس اسکیم کے لیے درخواست ریاستی حکومت کے آن لائن پورٹل کے ذریعے دی جاتی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں قائم کمیٹی میں درخواست گزار کے انٹرویو کے بعد تجویز منظور ہونے کی صورت میں قرض کی منظوری کے لیے بینک کو بھیجی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan