
بولپور، 19 ستمبر (ہ س)۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی یادوں اور ان کی تاریخی وراثت کو اپنے اندر سمیٹے شانتی نکیتن میں اب سیاحوں کے لیے ایک اور اہم دروازہ کھل گیا ہے۔ 19 ستمبر 2026 سے شانتی نکیتن گرہ کو ہیریٹیج واک کے ذریعے سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ چھ سال سے زائد عرصے تک بند رہنے کے بعد اس تاریخی عمارت میں سیاحوں کی آمدورفت شروع ہونا شانتی نکیتن کی وراثت کو قریب سے جاننے والوں کے لیے اہم خبر ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شانتی نکیتن کی خصوصیت یہی ہے کہ یہاں تاریخ صرف عجائب گھر میں بند نہیں ہے، بلکہ یہاں کی مٹی، درخت، عمارتیں، موسیقی، فن اور تعلیم کی روایت آج بھی ٹیگور کی اس سوچ کی کہانی سناتی ہے، جس نے بولپور کے اس چھوٹے سے علاقے کو دنیا کے ثقافتی نقشے پر ایک الگ شناخت دی۔
شانتی نکیتن گرہ کو شانتی نکیتن احاطے کی سب سے قدیم اینٹوں سے بنی عمارت مانا جاتا ہے۔
سال 1862 میں مہارشی دیویندر ناتھ ٹیگور نے اس جگہ کو خریدا تھا۔ بعد میں یہی احاطہ ٹیگور خاندان کی سرگرمیوں اور شانتی نکیتن کی ترقی کا اہم مرکز بنا۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے سال 1901 میں برہم چریہ آشرم کا آغاز کیا، جس نے آگے چل کر وشو بھارتی کی فکر اور نظامِ تعلیم کی بنیاد تیار کی۔
اب ہیریٹیج واک کے دوران سیاح شانتی نکیتن گرہ کو دیکھ سکیں گے۔
یہاں آنے والے لوگوں کو صرف ایک پرانی عمارت دیکھنے کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ وہ اس تاریخی ماحول کو محسوس کر سکیں گے، جہاں سے ٹیگور کی تعلیم، ادب، فن اور فطرت پر مبنی فکر کے ایک اہم سفر کا آغاز ہوا۔
شانتی نکیتن آنے والے سیاحوں کے لیے اترایان احاطہ اہم ترین پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں رابندر ناتھ ٹیگور سے وابستہ ادین، شیاملی، پونشچ، کونارک اور ادیچی جیسی عمارتیں ہیں۔ ان عمارتوں کا طرزِ تعمیر ایک دوسرے سے مختلف ہے اور ان میں ٹیگور کی زندگی، ان کے فن اور ان کے تجربات کی جھلک نظر آتی ہے۔
وشو بھارتی کے منصوبے کے مطابق پوجا کی تعطیلات کے بعد ان تاریخی عمارتوں کو بھی سیاحوں کے لیے کھولنے کی سمت میں کام کیا جا رہا ہے۔ اس سے آنے والے وقت میں شانتی نکیتن کا ہیریٹیج سرکٹ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
شانتی نکیتن کی شناخت صرف ٹیگور کی رہائشی عمارتوں سے نہیں ہے۔ یہاں چھاتمتلا، اپاسنا گرہ، بکُل بیتھی، گھنٹ تلا، آمر کنج، پاٹھ بھون اور سنگھ سدن جیسے کئی تاریخی مقامات ہیں۔
اپاسنا گرہ اپنی شیشے کی دیواروں اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث توجہ کا مرکز ہے۔ وہیں چھاتمتلا شانتی نکیتن کی ابتدائی روحانی تاریخ سے جڑا اہم مقام ہے۔ آم کے درختوں سے گھرا آمر کنج اور کھلے ماحول میں تعلیم کی روایت یہ بتاتی ہے کہ ٹیگور کی نظر میں تعلیم صرف کلاس روم اور کتابوں تک محدود نہیں تھی۔
رابندر ناتھ ٹیگور نے شانتی نکیتن میں ایسے نظامِ تعلیم کا تصور پیش کیا تھا، جس میں فطرت، موسیقی، ادب، مصوری، رقص اور ثقافت کو تعلیم کا حصہ بنایا گیا۔ کھلے ماحول میں پڑھائی اور فطرت کے درمیان سیکھنے کی روایت شانتی نکیتن کی سب سے منفرد شناخت بنی۔
اسی سوچ نے آگے چل کر شانتی نکیتن کو ہندوستانی اور بین الاقوامی فن و ثقافت کے اہم مراکز میں شامل کیا۔ کلا بھون اور سنگیت بھون نے اس ثقافتی وراثت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شانتی نکیتن کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو بین الاقوامی شناخت اس وقت ملی، جب 2023 میں اسے یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یونیسکو نے شانتی نکیتن کو ٹیگور کی تعلیم اور انسان دوست نظریات سے فروغ پانے والے ایسے احاطے کے طور پر تسلیم کیا، جہاں فطرت، فن اور تعلیم کا منفرد امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد