
حیدرآباد ،19 ستمبر(ہ س)۔ بلٹ ٹرین کے مطالبہ پرریلوے سادھنا کمیٹی کی جانب سے سوریا پیٹ میں مکمل بند منایا گیااوراحتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں،مختلف تنظیموں اورہرطبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا۔ کاروباری افراد اور تعلیمی اداروں ودیگرنے رضاکارانہ طورپربند کیا۔ عوام اورمختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے بلٹ ٹرین کوسوریا پیٹ سے گزارنے کامطالبہ کیا۔ ریلوے سادھنا کمیٹی کے ذمہ داران نے کہا کہ سوریا پیٹ شہرایک اہم اورتجارتی مرکزہے اوریہاں سے بلٹ ٹرین کا گزرنا نہ صرف شہربلکہ اطراف کے علاقوں کی ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔ کمیٹی نے مرکزی وریاستی حکومت سے مطالبہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ حیدرآباد–چنئی ہائی اسپیڈ ریل کاریڈورکے مجوزہ روٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ابتدائی تجویزمیں چوٹ اپل،سوریاپیٹ کوداڑ شامل تھے جبکہ بعدازاں نئے روٹ میں فیوچرسٹی، ڈرائی پورٹ، ہالیہ اوروڈاپلی کا ذکرکیا گیا ہے۔ اسی تبدیلی کے خلاف ریلوے سادھنا کمیٹی اورمقامی عوام کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ریلوے سادھنا کمیٹی نے اس موقع پرعوام سے اپیل کی کہ سوریا پیٹ کے مستقبل اورعلاقے کی ترقی کے لیے اس مطالبہ کی حمایت کریں اورجمہوری وپرامن طریقے سے اپنی آوازحکومت تک پہنچائیں۔احتجاجی جلوس کے دوران رکن اسمبلی سوریاپیٹ وسابق وزیر جی جگدیش ریڈی نے کہا کہ بلیٹ ٹرین کےلیے اصل الائنمنٹ (راستے کا تعین)کوہی برقراررکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مجوزہ الائنمنٹ سے تلنگانہ کوقطعاً کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ جگدیش ریڈی نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ یہ بلیٹ ٹرین روٹ ایک ایسے ’فیوچر سٹی‘ سے کیوں تجویز کیا جا رہا ہے جس کا اپنا کوئی مستقبل ہی نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ چوٹ اپل، سوریا پیٹ اور کوداڑ سے گزرنے والا ریلوے روٹ نلگنڈہ ورنگل اور کھمم اضلاع کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق