
رانچی، 19 ستمبر (ہ س)۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کی جانب سے ہفتہ کو اورمانجھی، نامکم، انگڈا سمیت رانچی کے دیگر بلاکس میں مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ (ایم ایم ڈی آر) ترمیمی بل کے خلاف دھرنا اور احتجاج کیا گیا۔ اس دوران پارٹی رہنماو¿ں اور کارکنوں نے ایم ایم ڈی آر کی شقوں پر اعتراض کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاج درج کرایا۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت سے ایم ایم ڈی آر ترمیمی بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر عظیم شہر کے کنوینر ڈاکٹر ہیملال کمار مہتا عرف ہیمو نے کہا کہ ایم ایم ڈی آر سے متعلق دفعات کے مقامی سطح پر عوام کے مفادات اور حقوق پر پڑنے والے اثرات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح اس پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے، وہ مناسب نہیں ہے۔ جھارکھنڈ کی معدنیات پر صرف قبائلیوں اور مقامی باشندوں کا حق ہے۔ مرکزی حکومت کی من مانی اور اضافی ٹیکس وصولی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات پر جس طرح سیس میں اضافہ کیا گیا ہے، اسے حکومت فوری طور پر واپس لے۔
انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کے مرکزی حکومت پر معدنی رائلٹی اور زمین کے محصول کی مد میں 1.36 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم بقایا ہے، لیکن مرکزی حکومت اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئلے پر ٹیکس اور سیس عائد کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دھرنے کے دوران کارکنوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور متعلقہ معاملے میں ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مطالبات سے متعلق میمورنڈم اورمانجھی کے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کو سونپا گیا۔
پروگرام میں جے ایم ایم کے مرکزی رکن اور ضلع و عظیم شہر کنوینر ڈاکٹر ہیملال کمار مہتا عرف ہیمو، اشونی شرما، ساحل یادو، گوپال پانڈے اور راہل ورما سمیت جے ایم ایم کے متعدد رہنما اور کارکن موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد