
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔
مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان عالمی جھٹکوں کے باوجود ہندوستانی معیشت نے مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عالمی درجہ بندی ایجنسی موڈیز ریٹنگز نے رواں مالی سال 27-2026 کے لیے ہندوستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا تخمینہ چھ فیصد سے بڑھا کر سات فیصد کر دیا ہے۔ ایجنسی نے ساتھ ہی تیل کی اونچی قیمتوں اور النینو کے اثرات سے مہنگائی بڑھنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
درجہ بندی ایجنسی نے جمعہ کے روز جاری کردہ اپنے تازہ ترین تخمینے میں کہا کہ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر ہندوستان کی حقیقی جی ڈی پی شرحِ نمو 8.2 فیصد رہی، جبکہ 2025 میں یہ 7.3 فیصد رہی تھی۔ یہ مضبوط نجی کھپت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے پر حکومت کے مسلسل اخراجات، سروس سیکٹر کے استحکام اور نجی سرمایہ کاری میں تیزی کے باعث ممکن ہوا ہے۔ اس مہینے کے اوائل میں جاپان کی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’جے سی آر‘ نے ہندوستان کی ریٹنگ کو بڑھا کر ’اے مائنس‘ (اے-) کر دیا تھا۔ مضبوط معاشی نمو اور مستحکم مالیاتی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے 35 سال کے وقفے کے بعد یہ تاریخی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
درجہ بندی ایجنسی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی سے پیدا ہونے والے عالمی جھٹکوں کے تئیں معیشت کی جانب سے دکھائی گئی مضبوطی کے پیشِ نظر ہم نے 31 مارچ 2027 کو ختم ہونے والے مالی سال 27-2026 میں حقیقی جی ڈی پی کی ترقی کا تخمینہ پہلے کے چھ فیصد سے بڑھا کر سات فیصد کر دیا ہے۔
ایجنسی نے واضح کیا کہ جی ڈی پی شرحِ نمو کے تخمینے میں یہ ترمیم مغربی ایشیا میں جاری بحران کے سبب پیدا شدہ غیر یقینی حالات کے درمیان ہندوستانی معیشت کی پائیداری کو ظاہر کرتی ہے۔ ایجنسی کا یہ تخمینہ آر بی آئی، ایس اینڈ پی اور فچ کے تخمینوں سے زیادہ ہے۔ درجہ بندی ایجنسی نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان تمام دیگر جی-20 معیشتوں کے مقابلے میں تیز ترین رفتار سے آگے بڑھتا رہے گا۔
رواں مالی سال 27-2026 کی اپریل تا جون پہلی سہ ماہی میں ہندوستانی معیشت 7.8 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے، جو آر بی آئی کے سات فیصد جی ڈی پی شرحِ نمو کے تخمینے سے زائد ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن