
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے منی پور کے چیف سکریٹری کو 2023 کی نسلی تشدد کے متاثرین کے لیے قائم راحت کیمپوں میں ہونے والی 25 غیر طبعی اموات کے بارے میں رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے منی پور کے ایک آئی اے ایس افسر کی رپورٹ کا نوٹس لیا، جس میں کہا گیا تھا کہ راحت کیمپوں میں 608 اموات ہوئیں، لیکن صرف 20 معاملات میں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ تمام غیر طبعی اموات کے معاملات میں پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کیا گیا۔
منی پور میں تشدد کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب کچھ قبائلی گروہوں نے اکثریتی میتئی برادری کو ’درج فہرست ذات‘ کا درجہ دینے کے مطالبے کی مخالفت کی۔ دراصل، 19 اپریل 2023 کو منی پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو میتئی برادری کو درج فہرست ذاتوں میں شامل کرنے پر غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔
اس حکم کے بعد ریاست میں میتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان پرتشدد نسلی جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ بعد ازاں 2024 میں منی پور ہائی کورٹ نے اپریل 2023 کے اپنے متنازعہ فیصلے کو واپس لے لیا۔ منی پور تشدد کے دوران جولائی 2023 میں دو خواتین کو برہنہ حالت میں گھمائے جانے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد