
ایشیائی کھیل : ہندوستانی سرفنگ کوچ سمائی ریبول نے کہا- 2028 کا اولمپکس ہمارا حتمی ہدف
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستانی سرفنگ ٹیم کے ہیڈ کوچ سمائی ریبول نے کہا ہے کہ 2026 کے ایشیائی کھیل ہندوستانی سرفنگ کے فروغ کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہیں، لیکن ان کا حتمی ہدف 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں ہندوستانی سرفروں کو پہنچانا ہے۔ فرانس میں پیدا ہونے والے ریبول 2024 سے سرفنگ فیڈریشن آف انڈیا کے ہیڈ کوچ ہیں اور چار رکنی ہندوستانی ٹیم کی تیاریوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
آئچی-ناگویا ایشیائی کھیلوں میں سرفنگ ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں اس بار شامل کیا گیا ہے۔ یہ مقابلہ 25 ستمبر سے معروف پیسفک لانگ بیچ پر منعقد ہوگا۔ ہندوستان مردوں اور خواتین کے شارٹ بورڈ مقابلے میں دو دو کھلاڑیوں کے ساتھ اترے گا۔ مردوں کے زمرے میں کشور کمار اور سیواراج بابو نیز خواتین کے زمرے میں تمل ناڈو کی کمالی مورتی اور گوا کی شوگر شانتی بنارسے ہندوستان کی نمائندگی کریں گی۔ ایشیائی کھیلوں میں سرفنگ کے توسط سے 2028 کے اولمپکس کے لیے کوٹہ نشستیں بھی دستیاب ہوں گی۔
ریبول کے ساتھ سنجے سیلوا منی کوچنگ اسٹاف میں ان کے نائب کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سیلوا منی کوولم سے وابستہ ہندوستانی مسابقتی سرفنگ کے علمبردار اور پیشہ ور سرفنگ ٹرینر ہیں۔ وہ ہندوستان کی پہلی قومی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے آئی ایس اے ورلڈ سرفنگ گیمز میں حصہ لے چکے ہیں اور اب اپنے بین الاقوامی تجربے سے کھلاڑیوں کی تیاری میں تعاون کر رہے ہیں۔
41 سالہ ریبول کے پاس فرانسیسی پاسپورٹ ہے، لیکن وہ خود کو ہندوستانی تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ پڈوچیری کے اوروول میں گزارا ہے۔ انہوں نے سائی میڈیا کے حوالے سے کہا، ’’میرے والد فرانسیسی ہیں اور والدہ باسک سے تعلق رکھتی ہیں۔ شمالی اسپین کے ایک دور دراز علاقے میں مقیم رہنے کے دوران انہوں نے پہلی بار دوستوں کے ذریعے شری اروند اور اوروول کے بارے میں سنا۔ وہ فوراً اس کی طرف مائل ہو گئے۔ میرے والد سب سے پہلے خود یہ دیکھنے آئے کہ یہ جگہ دراصل کیسی ہے اور واپس لوٹنے کے کچھ ہی عرصے بعد ہم نے اپنا سامان باندھا اور ہندوستان آ گئے۔‘‘
اوروول میں اپنے ابتدائی ایام کو یاد کرتے ہوئے ریبول نے کہا، ’’ہمیں دوست بنانے اور یہاں اپنائیت محسوس کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ سرفنگ نے مجھے راحت محسوس کرانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ سمندر میں رہنا مجھے اپنے گھر جیسا لگتا تھا اور میں جتنا ممکن ہو سکتا تھا پانی میں وقت گزارتا تھا، جس سے میرے والدین اور اساتذہ خاصے پریشان رہتے تھے۔‘‘
ہندوستان میں سرفنگ کو آگے بڑھانے کے اپنے سفر پر ریبول نے کہا کہ یہ جنون، تجربے اور اتفاق سے ہونے والی فطری پیش رفت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہاں تک پہنچنا جنون، تجربے اور اتفاق کے ملاپ سے ہوئی فطری ترقی کا ثمر تھا۔ میں نے 10 سال سے زیادہ عرصے تک ٹرینر کی حیثیت سے کام کیا اور کلالیالے سرف اسکول کا انتظام سنبھالا۔ اس تجربے کے دوران میں ہمیشہ بطور ٹرینر خود کو نکھارنا اور آگے بڑھنا چاہتا تھا اور میں نے آئی ایس اے کی کوچنگ اور ججنگ کی اہلیت حاصل کی۔‘‘
2024 میں مالدیپ میں منعقدہ ایشین سرفنگ چیمپئن شپ میں قومی ٹیم کو کوچنگ دینا اور ہندوستان کو تاریخی کانسے کا تمغہ دلانے میں کردار ادا کرنا ریبول کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ ان کے مطابق، اس کامیابی نے ہندوستانی سرفروں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت اور اعتماد پیدا کیا۔ اب ایشیائی کھیل ہندوستانی سرفنگ کے معیار کا امتحان ہوں گے۔
ریبول نے کہا، ’’جب کوئی کھیل ایشیائی کھیلوں جیسے ایونٹ میں شامل ہوتا ہے تو اسے بالکل مختلف سطح پر شناخت حاصل ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایشیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے فورم پر ایک ابھرتی ہوئی سرفنگ قوم کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ ہندوستان میں اسے دیکھنے والے نوجوانوں کے لیے یہ سرفنگ کو ایک سنجیدہ کھیل کے طور پر اپنانے کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ بطور کوچ یہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ ہم کچھ عرصے سے اس کی تیاری کر رہے ہیں اور اب کھلاڑیوں کے پاس یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ ہندوستانی سرفنگ کیا کمال دکھا سکتی ہے۔‘‘
ہندوستان کے 7,000 کلومیٹر سے زائد طویل ساحل نے ملک کو سرفنگ کے لیے وسیع امکانات کا حامل خطہ بنا دیا ہے۔ ملک میں منظم سرفنگ کا آغاز 2011 میں قومی تنظیم کی تشکیل کے ساتھ ہوا اور 2013 میں پہلی نیشنل چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے بعد سرفنگ ’نیشنل سرف سیریز‘ کی شکل میں ملک کے مختلف ساحلی علاقوں تک پہنچی ہے۔
ریبول نے کہا، ’’اب ہمیں وقت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ سرفنگ کے کلچر کو پروان چڑھنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ ہندوستان فی الحال یہی بنیاد تیار کر رہا ہے۔ ہم بہتر مقابلے، معیاری کوچنگ، نوجوان سرفروں کی بڑی تعداد اور زیادہ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی تجربہ حاصل کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ہندوستان کا 2026 کے ایشیائی کھیلوں کے لیے کوالیفائی کرنا بذاتِ خود اس پیش رفت کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ ہم واضح طور پر درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی قومی یومِ کھیل سے قبل اپنے خطاب میں سرفنگ اور کوہ پیمائی (کلائمبنگ) جیسے کھیلوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے قدرتی وسائل ان کھیلوں کے لیے موزوں ہیں اور ملک کو اولمپک سطح پر مقابلہ کرنا چاہیے۔
ریبول نے کہا، ’’اولمپکس بلاشبہ طویل مدتی وژن کا حصہ ہے، لیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے ایک کلیدی مقصد یہ ہے کہ ہندوستانی سرفروں کے لیے کم عمری سے ہی صلاحیتوں کو نکھارنے اور بالآخر اعلیٰ ترین بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے پائیدار راستے ہموار کیے جائیں۔ 2026 کے ایشیائی کھیل اس سمت میں ایک اہم اقدام ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے بعد ہمیں 2028 کے اولمپکس اور اس سے آگے کے لیے تیاری کرنی ہوگی۔ میرے نزدیک کامیابی کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہندوستانی سرفروں باقاعدگی سے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیں، ضروری تعاون و سہولیات کے ساتھ سفر کریں، پیشہ ورانہ مقابلے کو سمجھیں اور بڑے ٹورنامنٹس کے لیے کوالیفائی کرنے کے اہل ہوں۔ اگر ہم یہ پورا نظام درست طریقے سے استوار کر لیتے ہیں تو اولمپک کوالیفکیشن، جو کہ ہمارا حتمی ہدف ہے، کسی وقتی مقصد کے بجائے اس مضبوط نظام کا قدرتی نتیجہ بن جائے گا۔‘‘
اوروول اور روحانیت کے ساتھ اپنے تعلق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ریبول نے کہا کہ اس کا سرفنگ کے ساتھ بھی گہرا رشتہ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میرے نزدیک روحانیت اور سرفنگ کے درمیان کا رشتہ انتہائی گہرا ہے۔ سمندر ہمیں یہ یاد دلانے کا بہترین ذریعہ ہے کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی۔ آپ مکمل تیاری کر سکتے ہیں، پانی میں اتر سکتے ہیں لیکن لہریں آپ کی توقعات کے بالکل برعکس بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے آپ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا سیکھتے ہیں۔ آپ صبر کرنا سیکھتے ہیں۔ آپ مشاہدہ کرنا سیکھتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’عمدہ سرفنگ کے لیے ضروری ہے کہ آپ مکمل طور پر حال کے لمحے میں جئیں۔ آپ گزری ہوئی بات یا آنے والے کل کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔ آپ کی پوری توجہ لہر کی چال کو سمجھنے اور اسی لمحے پیش آنے والی صورتِ حال کے مطابق فوری ردِعمل دینے پر مرکوز ہوتی ہے۔ اسے ’فلو اسٹیٹ‘ کہا جاتا ہے اور یہ انسان کو مراقبے (دھیان) کی گہری کیفیت تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔‘‘
ایشیائی کھیلوں میں سرفنگ کی شمولیت اور ہندوستان کا پہلی بار اس کے لیے کوالیفائی کرنا ملک میں اس کھیل کے لیے ایک انقلابی موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے سرفنگ کو قومی سطح پر شناخت اور منظم سرپرستی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کی سمت میں پیش قدمی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن