
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ دنیا کو سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے لیے نئے اور قابل اعتماد مقامات کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور بھارت اس موقع کے لیے خود کو مسلسل تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سیمی کنڈکٹر کی تیاری کا پسندیدہ مرکز بننے کی سمت میں ہر ضروری قدم اٹھا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے یہاں یشو بھومی میں سیمیکون انڈیا-2026 کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سیمی کنڈکٹر مشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 8 ارب ڈالر کے اخراجات کا منصوبہ تھا، جسے دوسرے مرحلے میں بڑھا کر 13.5 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پالیسیوں پر تبادلہ خیال ہوا، بعد کے مراحل میں پائلٹ لائن اور ٹیسٹنگ کی سمت میں پیش رفت ہوئی اور اب بھارت تجارتی پیداوار کے مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔
مودی نے کہا کہ موہالی اور سورت میں دو سیمی کنڈکٹر پلانٹس میں تجارتی پیداوار شروع ہو گئی ہے اور بھارت میں تیار کردہ چپس اب ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے صارفین تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں کسی ملک کو اس مقام تک پہنچانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ فیکٹری قائم ہوتے ہی پیداوار شروع نہیں ہو جاتی۔ اس کے لیے تکنیکی صلاحیت اور مہارت پیدا کرنے میں طویل وقت لگتا ہے۔ وزیر اعظم نے صنعت سے وابستہ افراد سے اس سفر میں فعال شرکت جاری رکھنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا مقصد فیب لیس کمپنیوں کی ترقی اور دانشورانہ املاک کی تخلیق کو ملک میں فروغ دینا ہے۔ مختلف اقسام کے کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر، سلیکان فوٹونکس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی بنیادی ڈھانچے کے لیے ضروری ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ مودی نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کو مضبوط بنانا بھارت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سمت میں کئی اصلاحات کی گئی ہیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک 12 سیمی کنڈکٹر منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے اور اگلے مرحلے میں ان کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے کیمیکلز اور گیسوں سمیت سیمی کنڈکٹر سپلائی چین سے وابستہ شعبوں کی کمپنیوں سے بھی بھارت میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔
مودی نے کہا کہ بھارت کی ایک بڑی طاقت اس کا نوجوان اور ہنرمند انسانی وسائل ہے۔ حکومت کا ہدف ایک لاکھ انجینئرنگ طلبہ کو سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے تربیت دینا ہے اور اب تک بڑی تعداد میں نوجوانوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ انہوں نے بھارت میں تحقیق کر رہے نوجوان ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ بیرون ملک تحقیق کر رہے بھارتی نوجوانوں سے بھی جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں ملک سے وابستہ ہونے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صنعت کے رہنماؤں سے ملک میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کی قیادت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صنعت کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ بھارت کی نوجوان طاقت بھی مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے ساتھ کمپیوٹنگ طاقت کی ضرورت تیزی سے بڑھے گی اور اس کے ساتھ بجلی کی طلب بھی بڑھے گی۔ اے آئی ڈیٹا سینٹروں میں ہزاروں اعلیٰ صلاحیت والے پروسیسر ایک ساتھ کام کر رہے ہیں اور بڑی مقدار میں ڈیٹا کو پروسیس کر رہے ہیں۔ ایسے میں سیمی کنڈکٹر پلانٹس اور ڈیٹا سینٹروں کو قابل اعتماد بجلی فراہم کرنا بھی اہم ہوگا۔ مودی نے کہا کہ بھارت بجلی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ گزشتہ دہائی میں ملک کی نصب شدہ شمسی توانائی کی صلاحیت بڑھ کر 160 گیگاواٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جوہری توانائی کے شعبے میں بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے بجلی ترسیلی نیٹ ورک کو بھی وسعت دی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا جمہوری نظام، وسیع ٹیلنٹ بیس اور مضبوط ہوتا بنیادی ڈھانچہ اسے عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی چین میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں، بھارت میں پیدا ہونے والے مواقع کو وسیع عالمی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمیکون انڈیا کا انعقاد 2022 میں شروع ہوا تھا اور ہر ایڈیشن کے ساتھ بھارت کا سیمی کنڈکٹر سفر ایک نئے مرحلے میں پہنچا ہے۔ اس سال کا انعقاد پائلٹ منصوبوں سے آگے بڑھ کر تجارتی پیداوار کی سمت میں بھارت کی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد