وزارتِ خزانہ نے کہا- بڑے یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر عائد کرنے کا فیصلہ امریکی دباو میں نہیں
وزارتِ خزانہ نے کہا- بڑے یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر عائد کرنے کا فیصلہ امریکی دباو میں نہیں نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ وزارت خزانہ نے بڑے مالیت کے یو پی آئی لین دین پر 0.4 فیصد مرچنٹ ڈسکاونٹ ریٹ (ایم ڈی آر) عائد کرنے کا فیصلہ امریکی دباو می
علامتی تصویر


وزارتِ خزانہ نے کہا- بڑے یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر عائد کرنے کا فیصلہ امریکی دباو میں نہیں

نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ وزارت خزانہ نے بڑے مالیت کے یو پی آئی لین دین پر 0.4 فیصد مرچنٹ ڈسکاونٹ ریٹ (ایم ڈی آر) عائد کرنے کا فیصلہ امریکی دباو میں کیے جانے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت نے جمعرات کو این پی سی آئی کے دو ہزار روپے سے زائد کے منتخب تاجر (پی 2 ایم) کے یو پی آئی ادائیگی پر 0.4 فیصد مرچنٹ ڈسکاونٹ ریٹ (ایم ڈی آر) نافذ کیے جانے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر برپا گھمسان کے درمیان وضاحت بھی جاری کی ہے۔

وزارت نے کہا کہ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے حال ہی میں جاری رہنما خطوط میں یو پی آئی پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے لین دین کے لیے صرف روپے کریڈٹ کارڈ کی اجازت ہے اور اس سے غیر ملکی کریڈٹ کارڈز کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔ محکمہ مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس) نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں امریکی تجارتی نمائندے کی 2026 کی رپورٹ میں ہندوستان کے یو پی آئی نظامِ ادائیگی میں امریکی الیکٹرانک پیمنٹ سروس فراہم کنندگان کو روپے کارڈ کے مساوی مواقع نہیں ملنے سے متعلق تبصروں کے جواب میں یہ وضاحت پیش کی ہے۔

ڈی ایف ایس نے کہا، ’’این پی سی آئی کے 15 ستمبر کے سرکلر میں روپے کارڈ کے علاوہ کسی دوسرے کریڈٹ کارڈ سے یو پی آئی پر کریڈٹ لین دین کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ وہیں، ایم ڈی آر کو کسی بیرونی اثر و رسوخ کی وجہ سے نافذ کیے جانے کا الزام ’غلط اور گمراہ کن‘ ہے۔‘‘ وزارت خزانہ کی یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کانگریس سمیت بعض اپوزیشن جماعتوں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی حکومت نے دو ہزار روپے سے زائد کے تجارتی یو پی آئی لین دین پر 0.4 فیصد ایم ڈی آر لاگو کرنے کا فیصلہ امریکی دباو میں کیا ہے۔

این پی سی آئی نے کہا کہ زیادہ مالیت کے منتخب یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر عائد کرنے کا مقصد یو پی آئی ایکو سسٹم کے لیے ایک پائیدار آمدنی ماڈل تیار کرنا ہے۔ اس سے چھوٹے تھرڈ پارٹی ایپ پرووائیڈرز کو مارکیٹ میں زیادہ حصہ داری حاصل کرنے کے لیے مسابقت کا موقع ملے گا۔ اس سے قبل این پی سی آئی نے نومبر 2020 میں تھرڈ پارٹی ایپ پرووائیڈرز کے لیے 30 فیصد مارکیٹ شیئر کی حد مقرر کی تھی۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ پائیدار ریونیو ماڈل نہ ہونے کے سبب مارکیٹ کی سرکردہ کمپنیوں کے علاوہ دیگر ادارے مقابلہ کرنے سے قاصر تھے۔

این پی سی آئی کے نئے رہنما خطوط کے تحت 15 اکتوبر سے 2,000 روپے سے زائد کے فرد سے تاجر (پی 2 ایم) یو پی آئی ادائیگی پر 0.4 فیصد فیس لاگو ہوگی۔ اس کی ادائیگی تاجر کرے گا اور 75 ہزار روپے یا اس سے زائد کا لین دین ہونے پر یہ زیادہ سے زیادہ 300 روپے ہوگی۔ وہیں، دو افراد کے درمیان ہونے والا لین دین اور روزمرہ کی چھوٹی تجارتی ادائیگیاں کسی بھی فیس سے مکمل مستثنیٰ رہیں گی۔

ریلوے، ٹیلی کام، ایندھن اور انشورنس جیسی ضروری خدمات کے لیے 2,000 روپے سے زائد کے لین دین پر 5 روپے کی فیس ہوگی، جبکہ میوچل فنڈز اور شیئر بروکرنگ جیسے کیپٹل مارکیٹ لین دین پر 0.02 فیصد ایم ڈی آر لاگو ہوگا، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے ہوگی۔ قابلِ ذکر ہے کہ مہینے میں یو پی آئی کیو آر کوڈ کے ذریعے ایک لاکھ روپے تک کی وصولی کرنے والے چھوٹے تاجر اس فیس سے مکمل طور پر آزاد رہیں گے۔ دیہاتوں اور قصبوں میں تاجروں کو کی جانے والی یو پی آئی کیو آر ادائیگیوں پر بھی ایم ڈی آر لاگو نہیں ہوگا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande