این ایس ای کا آئی پی او سبسکرپشن کے لیے کھلا، گرے مارکیٹ کے منفی ردعمل کی وجہ سے سرمایہ کار بولی لگانے سے خوفزدہ
نئی دہلی، 17 ستمبر(ہ س)۔ سرمایہ کاروں کے طویل انتظار کے بعد آج نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا آئی پی او سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 21 ستمبر تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص 22 ستمبر کو ایشو بند ہونے کے بعد الاٹ کیے جائیں گے، جبک
شیئربازار


نئی دہلی، 17 ستمبر(ہ س)۔ سرمایہ کاروں کے طویل انتظار کے بعد آج نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا آئی پی او سبسکرپشن کے لیے لانچ کیا گیا۔ آئی پی او 21 ستمبر تک بولی لگانے کے لیے کھلا ہے۔ حصص 22 ستمبر کو ایشو بند ہونے کے بعد الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 23 ستمبر کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاونٹ میں جمع کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 24 ستمبر کو بی ایس ای پر درج ہونے کا امکان ہے۔ لانچ کے بعد دوپہر 12 بجے تک آئی پی او کو صرف 22 فیصد سبسکرائب کیا گیا۔خیال کیا جارہا ہے کہ گرے مارکیٹ سے منفی ردعمل کی وجہ سے سرمایہ کار اس آئی پی او کے لیے بہت احتیاط سے بولی لگا رہے ہیں۔ گرے مارکیٹ میں این ایس ای کے حصص کی مانگ مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ 5 ستمبر کو گرے مارکیٹ میں اس اسٹاک کے لئے 310 روپے یعنی17.37 فیصد کا پریمیم مل رہا تھا، لیکن اس کے بعد سے اسٹاک کا گرے مارکیٹ پریمیم مسلسل گر رہا ہے۔ اسٹاک آج لانچ کے دن دوپہر 12 بجے گرے مارکیٹ میں صرف 137روپے یعنی 7.68 فیصد کے پریمیم پر تجارت کر رہا تھا۔ گرے مارکیٹ پریمیم میں کمی کی وجہ سے سرمایہ کار اب اس آئی پی او میں بولی لگانے سے گریزاں ہیں۔

اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے پرائس بینڈ 1,700 سے 1,785 روپے فی حصص مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ کا سائز 8 حصص ہے۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کار کم از کم ایک لاٹ یعنی 8 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,280روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کار1,99,920کی سرمایہ کاری سے زیادہ سے زیادہ 14 لاٹوں میں 112 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت، پیشکش برائے فروخت ونڈو کے ذریعے 1 روپے کی فیس ویلیو والے کل 12,64,36,650 حصص فروخت کیے جا رہے ہیں۔

آئی پی او میں 50 فیصد اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص ہے۔ مزید ، ایشو کا 35 فیصد خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے اور 15 فیصد غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص ہے۔ کوٹک مہندرا کیپٹل کمپنی لمیٹڈ کو اس ایشو کا بک رننگ لیڈ منیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایم یو جی ایف ان ٹائم انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔این ایس ای کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے، معمولی اتار چڑھاو کے باوجود اس کی مالی صحت مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023-2024میں کمپنی کا خالص منافع 8,305.74 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال2024-2025 میں بڑھ کر 12,187.69 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال2025-2026 میں کمپنی کا خالص منافع قدرے کم ہو کر 10,302.06 کروڑ روپے رہ گیا۔ موجودہ مالی سال 2026-2027 کے بارے میں بات کریں تو، پہلی سہ ماہی کے اختتام تک یعنی 30 جون 2026 تک، این ایس ای کا خالص منافع 3,120.08 روپے تھا۔

اس دوران این ایس ای کی آمدنی میں بھی معمولی اتار چڑھاو آیا۔ اس نے مالی سال 2023-2024میں 16,352.06 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024-2025میں بڑھ کر 19,176.83 کروڑ روپے ہو گئی اور 2025-2026میں قدرے گر کر 18,713.37 کروڑ روپے ہو گئی۔ پہلی سہ ماہی کے اختتام یعنی 30 جون 2026 تک این ایس ای کی آمدنی 5,252.17 کروڑ روپے تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande