
نیپال : سیلاب کے 21ویں دن بھی تلاش جاری، 1,399 لاشیں برآمد، 5,179 افراد اب بھی لاپتہ
کاٹھمانڈو، 16 ستمبر (ہ س)۔ نیپال میں گزشتہ 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے 21ویں دن بھی تلاش اور امدادی مہم جاری ہے۔ قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اب تک 1,399 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ 5,179 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ تقریباً 21 ہزار سیکورٹی اہلکار اب بھی تلاش، بچاو اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی سرنگوں، ندی کے کناروں، قریبی جنگلات اور سیلاب سے تباہ شدہ مکانات میں تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔ نیپالی فوج کے ترجمان راجا رام بسنیت کے مطابق، فوج کے تقریباً 8,900 جوان براہ راست تلاش، بچاو اور باہمی رابطے کے کام پر تعینات ہیں۔
مسلح پولیس کے تقریباً 5,000 اہلکار بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ ان کے ذریعے بچاو مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیپال پولیس کے تقریباً 8,000 جوان بھی تلاش اور بچاو کے کام میں لگائے گئے ہیں۔ سیلاب میں رسوا اور نوواکوٹ میں واقع نیپال پولیس کے پانچ دفاتر بھی بہہ گئے تھے، جنہیں تاحال مکمل طور پر بحال نہیں کیا جا سکا ہے۔
رسوا کے سیافرو بیسی علاقے میں تلاش اور بچاو کے لیے فوج کی تین ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ سیلاب میں سیافرو بیسی بازار کا بڑا حصہ بہہ گیا تھا اور وہاں پہنچنے والی سڑک بھی تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی اور تلاشی مہم میں تاخیر ہوئی۔ فوج متاثرہ کالونی، توپچے، دان سنگ، سامری بھنجیانگ، کالیکا استھان اور مانچیت سمیت متعدد علاقوں میں پیدل گشت بھی کر رہی ہے۔ دشوار گزار اور زمینی رابطے سے کٹے علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے ڈرون کا استعمال بڑھا دیا گیا ہے۔ نیپالی فوج کے ڈرون کے ذریعے نوواکوٹ میں 16,138 کلوگرام اور رسوا میں 5,861 کلوگرام امدادی اور ضروری سامان پہنچایا جا چکا ہے۔
چین کی سرحد سے متصل اہم تجارتی مرکز ٹیمورے میں سیلاب سے شدید تباہی مچی ہے۔ مسلح پولیس کی بی او پی کو چھوڑ کر تقریباً تمام سرکاری دفاتر بہہ گئے ہیں۔ تین ہفتے گزر جانے کے بعد بھی مسلح پولیس کے علاوہ دیگر سرکاری ایجنسیاں وہاں مکمل طور پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔ ٹیمورے بازار سے 100 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں، لیکن سیلاب سے منہدم مکانات میں اب تک کھدائی شروع نہیں ہو سکی ہے۔ مقامی عوامی نمائندوں اور نیپال پولیس کی عدم موجودگی کے سبب بھی ملبہ ہٹانے اور لاشوں کی برآمدگی کا عمل متاثر ہوا ہے۔
ٹیمورے کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ ٹیمورے سے تقریباً دو کلومیٹر اوپر واقع رسوا گڑھی ناکے تک جانے والی سڑک کا بھی نام و نشان نہیں رہا، جبکہ ٹیمورے سے تقریباً 16 کلومیٹر نیچے سیافرو بیسی تک کا راستہ پوری طرح بہہ گیا ہے۔ چیلیمے اور لانگ ٹانگ پن بجلی پروجیکٹس کی سرنگوں میں غیر ملکی تکنیکی ماہرین کے ہمراہ مشترکہ ریسکیو ٹیم تلاشی مہم چلا رہی ہے۔ چیلیمے پروجیکٹ کی سرنگ میں نکاسی آب کی جگہ پر شگاف بنا کر ریسکیو ٹیم تقریباً 130 میٹر اندر تک پہنچ چکی ہے۔ ملبہ ہٹانے کے لیے ایکسکاویٹر اور لوڈر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اپر تریشولی-1 کے ’آڈٹ-3‘ میں نیپالی فوج اور پروجیکٹ کے نمائندوں پر مشتمل بچاو دستہ تقریباً 600 میٹر اندر تک پہنچ چکا ہے۔ وہیں تریشولی-3 اے کی سرنگ اور پاور ہاوس کے احاطے میں بھی مشترکہ ٹیم تلاشی مہم چلا رہی ہے۔ تریشولی-3 بی میں نیپالی فوج سمیت مشترکہ ٹیم ایکسکاویٹر اور لوڈر کی مدد سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہے۔ منصوبے کے رہائشی احاطے میں دو رہائشی مکانات کی بنیادوں (پلنتھ) کے علاوہ فی الحال کوئی دوسرا ڈھانچہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن