
تہران، 16 ستمبر (ہ۔س)۔ واشنگٹن۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی نئی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ خبروں کے مطابق، امریکی فوجیوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ تصاویر فراہم کی ہیں۔ ان تصاویر میں سعودی عرب اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر تباہ شدہ طیارے، عمارتیں اور گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی بی ایس نیوز کی جانب سے جاری کردہ تصاویر کے حوالے سے ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی ایک تصویر میں چار انجن والے بوئنگ ای-3 سینٹری طیارے کے پچھلے حصے کو شدید نقصان پہنچا ہوا دکھایا گیا ہے۔ تصویر کے مطابق، طیارے کا دم والا حصہ جلے ہوئے مرکزی ڈھانچے سے الگ ہو چکا ہے۔ اس طیارے پر نصب گھومنے والا ریڈار فضائی نگرانی اور معلومات جمع کرنے کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایئر بیس کی دیگر تصاویر میں تباہ شدہ عمارتیں اور بیرکیں بھی دکھائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض عمارتوں کے قریب موجود کنکریٹ کی حفاظتی دیواریں نسبتاً محفوظ نظر آتی ہیں۔
کویت میں واقع کیمپ ب±وہیرنگ کی تصاویر میں بھی تباہ شدہ عمارتیں، گاڑیاں اور دیگر فوجی سازوسامان دکھایا گیا ہے۔ یہ اڈہ امریکی فوج کے زمینی دستوں، بکتر بند گاڑیوں اور بعض طیاروں کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ کیمپ عریفجان سے بھی ایک تباہ شدہ عمارت کی تصویر سامنے آئی ہے۔
ایک امریکی فوجی نے سی بی ایس نیوز سے دعویٰ کیا ہے کہ ان فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات امریکی عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔ یہ بیان مذکورہ فوجی نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر دیا۔
امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی ایک نئی رپورٹ میں ایران جنگ کے دوران تقریباً 3.7 ارب ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان کے نقصان کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں لگ بھگ 60 طیارے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کی اطلاع دی۔
انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حملوں کے نتیجے میں ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر سیکڑوں عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔ تاہم، ان اڈوں کی مکمل مرمت پر آنے والی لاگت کا ابھی حتمی اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔
اس سے قبل سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ اردن کے موافق السلطی ایئر بیس پر ایرانی حملے میں کئی امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا۔ ذرائع کے مطابق، ایک اے-10 طیارے کا ایک ونگ متاثر ہوا، جبکہ تقریباً آٹھ ایف-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا، جنہیں بعد میں دوبارہ آپریشنل کر دیا گیا۔
نئی تصاویر اور امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان کی وسعت کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی ہیں۔ تاہم، تصاویر فراہم کرنے والے فوجیوں کے دعووں اور سرکاری فوجی جائزوں کے درمیان موجود فرق کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ہندستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی