ڈی پی سی سی نے گنیش اتسو اور درگا پوجا کے پیشِ نظر جمنا میں مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کر دی
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س):۔ دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) نے گنیش اتسو اور درگا پوجا کے پیشِ نظر جمنا ندی اور دیگر آبی ذخائر میں مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم، مقامی حکام کی جانب سے مقرر کردہ مقامات پر مورتیوں کے وسرجن کی
ڈی پی سی سی نے گنیش اتسو اور درگا پوجا کے پیشِ نظر جمنا میں مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کر دی


نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س):۔

دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) نے گنیش اتسو اور درگا پوجا کے پیشِ نظر جمنا ندی اور دیگر آبی ذخائر میں مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم، مقامی حکام کی جانب سے مقرر کردہ مقامات پر مورتیوں کے وسرجن کی اجازت ہوگی۔

ڈی پی سی سی نے 9 ستمبر کو ’آبی آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول ایکٹ، 1974‘ کی دفعہ 33 اے کے تحت ہدایات جاری کی تھیں۔ ان ہدایات میں مورتی بنانے والوں اور فروخت کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ قدرتی مٹی، حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والے مواد اور قدرتی رنگوں کا استعمال کریں۔

ڈی پی سی سی نے کہا کہ پانی میں وسرجن کے لیے پلاسٹر آف پیرس سے بنی مورتیوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ یہ حکم گنیش اتسو اور درگا پوجا کی تقریبات کے پیشِ نظر جاری کیا گیا ہے، کیونکہ ان تہواروں کے دوران ندیوں، جھیلوں، تالابوں اور کنوو¿ں جیسے آبی ذخائر میں مورتیوں کے وسرجن کی روایت رہی ہے۔ یہ ہدایات مئی 2020 میں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ رہنما اصولوں کے مطابق جاری کی گئی ہیں۔

ڈی پی سی سی نے دہلی میونسپل کارپوریشن، نئی دہلی میونسپل کونسل اور دہلی کینٹونمنٹ بورڈ کو اپنے اپنے علاقوں میں عارضی یا مصنوعی تالاب بنانے کی ہدایت دی ہے، تاکہ لوگ وہیں مورتیوں کا وسرجن کر سکیں۔

ڈی پی سی سی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن اور دہلی پولیس دہلی میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کی جانچ کریں گے۔ اگر کسی گاڑی میں پابندی عائد شدہ پی او پی کی مورتی پائی گئی تو اسے روک دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ، بغیر لائسنس یا رجسٹریشن کے چلنے والی مورتی سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ جمنا ندی اور کسی بھی آبی ذخیرے میں مورتیوں کے وسرجن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ماحولیاتی جرمانہ عائد کرکے اسے ڈی پی سی سی میں جمع کرایا جائے گا۔

ماحول دوست مورتیوں کی تیاری کے لیے غیر سرکاری تنظیموں اور پوجا کمیٹیوں کے تعاون سے اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹی ہالوں میں تربیتی پروگرام اور بیداری مہم چلانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande