
نئی دہلی، 16 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ عام شہریوں کے درمیان کسی بھی رقم کے یو پی آئی لین دین پر کوئی فیس عائد نہیں ہوگی۔ وزارتِ خزانہ نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ چھوٹے تاجروں کے لیے صفر مرچنٹ ڈسکاونٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کے تحت لین دین کے ساتھ ساتھ دکانداروں کو دو ہزار روپے تک کی ادائیگیاں بھی بدستور مفت رہیں گی۔
وزارتِ خزانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں بتایا کہ صارفین کے لیے یو پی آئی اب بھی مفت ہے۔ دوستوں کو رقم بھیجنا، دکانوں پر ادائیگی کرنا یا کیو آر کوڈ اسکین کرنا، ان سبھی پر کوئی چارج نہیں لگتا۔ وزارت نے کہا کہ چند دعووں میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلی غیر ملکی دباو کے سبب ہوئی ہے، جو کہ قطعی غلط ہے۔ وزارت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہندوستان کی یو پی آئی پالیسی سے متعلق فیصلے خود مختاری سے لیے جاتے ہیں، جن کا مقصد ایک خود کفیل، جامع اور کفایتی ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم تیار کرنا ہے۔
یو پی آئی چارجز میں تبدیلی کی اہم جھلکیاں:
پی 2 پی پر کوئی چارج نہیں: وزارتِ خزانہ کے مطابق ایک فرد سے دوسرے فرد (پی 2 پی) کو رقم منتقل کرنے پر کوئی چارج نہیں لگے گا، رقم خواہ کتنی بھی ہو۔
چھوٹے تاجروں کا تحفظ: یو پی آئی کیو آر کوڈ کے ذریعے ہر ماہ 1 لاکھ روپے تک کاروبار کرنے والے تاجروں پر کوئی چارج نافذ نہیں ہوگا۔
روزمرہ کی ادائیگیاں محفوظ: وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ 95 فیصد سے زیادہ مرچنٹ ادائیگیاں دو ہزار روپے سے کم کی ہوتی ہیں، جو مکمل طور پر مفت رہیں گی۔
دو ہزار روپے سے زائد پر معمولی ایم ڈی آر: دو ہزار روپے سے زائد کے بڑے مرچنٹ لین دین پر تاجروں کو معمولی چارج (0.4 فیصد) ادا کرنا ہوگا، جو کریڈٹ کارڈ یا دیگر نیٹ ورک چارجز کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
ضروری خدمات پر فیس متعین: ریلوے، ایندھن، ٹیلی کام، بل کی ادائیگی اور انشورنس وغیرہ کے لیے دو ہزار روپے سے زائد کے لین دین پر 5 روپے کی مقررہ فیس نافذ ہوگی۔
خصوصی رعایتی شرحیں: میوچل فنڈز اور سیکیورٹیز کی ادائیگی پر صرف 0.02 فیصد فیس لگے گی، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے ہے۔
صارفین کے لیے حفاظتی اقدامات
بینکوں کو سخت ہدایات: تاجر ایم ڈی آر کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کر سکتے۔
کوئی پوشیدہ چارج نہیں: یو پی آئی ایپس کسی بھی قسم کا پلیٹ فارم چارج وصول نہیں کر سکتیں۔
’’بیرونی دباو‘‘ سے متعلق غلط فہمی کا ازالہ: وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ چند دعووں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ یہ تبدیلی غیر ملکی اثر و رسوخ کے نتیجے میں ہوئی ہے، جو کہ بے بنیاد ہے۔ ہندوستان کی یو پی آئی پالیسی سے وابستہ فیصلے آزادانہ طور پر کیے جاتے ہیں جن کا مقصد ایک خود کفیل، سب کی شمولیت والا اور سستا ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام تعمیر کرنا ہے۔
یہ تبدیلی کیوں ضروری ہے؟
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ سال 2016 میں آغاز کے بعد سے یو پی آئی دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم باہمی مربوط نظامِ ادائیگی (انٹرآپریبل پیمنٹ سسٹم) بن چکا ہے۔ وزارت نے نشاندہی کی کہ یہ پیش رفت مکمل طور پر ہندوستان کی اپنی شرائط پر ممکن ہوئی ہے۔ صرف اگست 2026 میں یو پی آئی کے ذریعے 24.5 ارب کے لین دین مکمل کیے گئے۔ اس پورے نظام کو خود کفیل، محفوظ اور جدید ترین بنائے رکھنے کے لیے زیادہ مالیت کے مرچنٹ لین دین پر لاگو یہ معمولی فیس معاون ثابت ہوگی۔
بہتر بنیادی ڈھانچہ اور سائبر سیکورٹی
اس اقدام سے درجہ سوم تا ششم (ٹیئر 3 تا 6) کے شہروں اور دیہی علاقوں میں چھوٹے تاجروں کو مدد ملے گی، اور یو پی آئی کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے ترغیبات اور بیداری فراہم کی جا سکے گی۔ یہ نیا فریم ورک یقینی بناتا ہے کہ زیادہ قیمت والے تجارتی لین دین سے حاصل وسائل کا استعمال چھوٹے کاروباروں کی اعانت اور ملک بھر میں ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن