
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ حال ہی میں اختتام پذیر ورلڈ کپ میں بھارتی مردوں کی ٹیم کے آٹھویں اور خواتین کی ٹیم کے پانچویں مقام پر رہنے کے بعد اب دونوں ٹیمیں ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ جیتنے کے ہدف کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ مردوں کے زمرے میں بھارت کو خطاب کا مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے، جبکہ خواتین کی ٹیم بھی چین کو شکست دے کر طلائی تمغہ جیتنے کی امید کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ جیتنے سے لاس اینجلس 2028 اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے کی راہ بھی کھلے گی۔
کریگ فلٹن کی قیادت والی بھارتی مردوں کی ٹیم گزشتہ چار برس سے ایشیائی ہاکی میں اپنا غلبہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 2023 سے بھارت نے دو ایشین چیمپئنز ٹرافی، ایشیا کپ اور ایشین گیمز سمیت تمام براعظمی مقابلے جیتے ہیں اور اس دوران اسے ایک بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
تاہم، مسلسل دوسری بار ایشین گیمز کا طلائی تمغہ جیتنا آسان نہیں ہوگا۔ 2006 کے بعد سے کوئی بھی ٹیم مسلسل دو ایڈیشنز میں مردوں کی ہاکی کا طلائی تمغہ نہیں جیت سکی ہے۔ کاکامگہارا میں بھارتی ٹیم کی مہم ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں شروع ہوگی اور ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد یہ مقابلہ فلٹن اور ٹیم کے کئی سینئر کھلاڑیوں کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔
ورلڈ کپ کی غلطیوں سے سیکھنے کا چیلنج
ورلڈ کپ میں امیت روہیداس، جرمَن پریت سنگھ، سمت، جگراج سنگھ، یش دیپ سیواچ، سنجے رانا اور ہرمن پریت سنگھ سمیت بھارتی دفاعی صف کے کھلاڑیوں کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ بھارت نے پورے ٹورنامنٹ میں 19 گول کھائے، جو ورلڈ کپ میں پانچواں سب سے خراب دفاعی ریکارڈ تھا۔ پاکستان کے خلاف بھی بھارت نے تین گول گنوائے۔
گول کیپنگ سے لے کر فارورڈ لائن تک تقریباً ہر شعبے میں ٹیم مشکلات سے دوچار نظر آئی۔ تاہم، پنالٹی کارنر پر ہرمن پریت سنگھ کی ڈریگ فلک بھارت کے لیے ایک بڑی مثبت بات رہی۔ کمر کی تکلیف سے دوچار ہونے کے باوجود ان کی شاندار فنشنگ نے کئی مواقع پر بھارت کو مقابلے میں برقرار رکھا۔
اب ہرمن پریت کی کامیابی کو فیلڈ پلے میں بھارتی فارورڈ کھلاڑیوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔ 2023 کے ایشین گیمز کے بعد سے ابھیشیک نین مسلسل مؤثر رہے ہیں اور انہوں نے 86 میچوں میں 30 گول کیے ہیں۔ وہیں تجربہ کار فارورڈ من پریت سنگھ نے 69 میچوں میں 11 گول کیے ہیں۔
فلٹن نے ٹیم کے چاروں کوارٹرز میں یکساں کارکردگی برقرار رکھنے میں ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، ایشیا کی دیگر ٹیموں میں بھی پورے میچ کے دوران مسلسل اعلیٰ سطح کی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت پر سوالات ہیں۔ لاس اینجلس اولمپکس کا ٹکٹ داؤ پر ہونے کے باعث فلٹن نے ٹیم میں تجربے کو ترجیح دی ہے۔ اسی وجہ سے آدتیہ لالگے کی جگہ راج کمار پال کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جو ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کا حصہ تھے۔
بھارت کو گروپ مرحلے میں میزبان جاپان اور جنوبی کوریا کے خلاف ابتدائی مقابلوں میں اپنی تیاریوں کا امتحان دینا ہوگا۔ اس کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں پاکستان یا ملائیشیا سے ممکنہ مقابلہ ہو سکتا ہے۔
خواتین کی ٹیم بھی طلائی تمغے کی دعویدار
خواتین کے زمرے میں سجورد ماریجنے کی بھارتی ٹیم چین سے ایشیائی غلبہ چھیننے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔ ورلڈ کپ میں توقعات سے بہتر پانچویں مقام پر رہنے کے بعد ٹیم کا اعتماد بڑھا ہے۔ نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے متوازن امتزاج نے ٹیم میں نئی توانائی پیدا کی ہے۔
ورلڈ کپ میں بھارت نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف کوئی گول نہیں کھایا، جبکہ چین، جنوبی افریقہ، نیدرلینڈز اور جرمنی کے خلاف چار مقابلوں میں صرف چھ گول گنوائے۔ بھارت نے جن چھ ٹیموں کا سامنا کیا، ان میں سے پانچ کی عالمی رینکنگ بھارت سے بہتر تھی۔
آسٹریلیا کے خلاف مقابلے میں اگر گیند پر بہتر کنٹرول اور تحمل کا مظاہرہ کیا جاتا تو بھارت سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہو سکتا تھا۔ تاہم، ورلڈ کپ میں 11 کھلاڑیوں کے ڈیبیو کے ساتھ میدان میں اتری نوجوان ٹیم اب ان تجربات کو ایشین گیمز میں استعمال کرنا چاہے گی۔
نوینت کور اور دیپیکا بھارت کے لیے گول کرنے کی سب سے بڑی امید ہوں گی۔ دونوں فیلڈ گول کے ساتھ ساتھ پنالٹی کارنر میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ گروپ مرحلے میں نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف مقابلوں سے بھارت کی دیگر حملہ آور کھلاڑیوں کو بھی اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملے گا۔
بھارت کے پاس سویتا پونیا اور بیچو دیوی کی صورت میں دو مضبوط گول کیپرز ہیں۔ میڈل راؤنڈ میں، خاص طور پر چین کے خلاف ممکنہ مقابلے میں، دونوں کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ ورلڈ کپ کے ابتدائی مقابلے میں بھارت نے چین کو 2-2 سے برابری پر روکا تھا، لیکن دفاعی صف کی ناتجربہ کاری کے باعث شلپی داس کی غلطی سے چین کو پنالٹی اسٹروک مل گیا تھا۔
44 سالہ خشک سالی ختم کرنے کا ہدف
تجربہ کار مڈفیلڈر نیہا کو یقین ہے کہ بھارت اس بار 44 سال سے جاری ایشین گیمز کے طلائی تمغے کے خشک سالی کو ختم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں طلائی تمغہ جیتنا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو، ہم اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں گے۔ ہم طلائی تمغہ جیتیں گے۔‘‘
خواتین کی ٹیم کے ساتھ ایک اور معرکہ سر کرنے کی کوشش کر رہے ماریجنے کا ماننا ہے کہ بھارتی صلاحیتوں کا موجودہ گروپ ان کے پہلے دور کی ٹیم سے بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ تاہم، 2026 کی یہ ٹیم ورلڈ کپ میں پانچویں مقام کی شاندار کامیابی کے بعد ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیت کر ہی اس دعوے کو درست ثابت کر سکے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد