کیشاؤ کثیرالمقاصد ڈیم منصوبے پر چھ ریاستوں کے درمیان معاہدہ
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س): کیشاؤ کثیرالمقاصد ڈیم منصوبے کے سلسلے میں چھ ریاستوں نے منگل کو مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ ان ریاستوں میں ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور دہلی شامل ہیں۔ مجوزہ منصوبہ دریائے جمنا
کیشاؤ کثیرالمقاصد ڈیم منصوبے پر چھ ریاستوں کے درمیان معاہدہ


نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س): کیشاؤ کثیرالمقاصد ڈیم منصوبے کے سلسلے میں چھ ریاستوں نے منگل کو مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ ان ریاستوں میں ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور دہلی شامل ہیں۔ مجوزہ منصوبہ دریائے جمنا کی معاون ندی ٹونس پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس معاہدے سے منصوبے کو آگے بڑھانے اور ریاستوں کے درمیان زیرِ التوا رابطہ و تال میل کے مسائل حل ہونے کی امید ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ کے دوران چھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ منصوبے کا مقصد جمنا طاس میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ بجلی پیداوار اور سیلاب پر قابو پانے کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ جمنا طاس کے آبی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر ریاستوں کے درمیان تال میل کی کمی کے باعث یہ منصوبہ طویل عرصے سے زیرِ التوا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے کیشاؤ کثیرالمقاصد منصوبے کو قومی منصوبہ قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کا تقریباً 90 فیصد مالی بوجھ حکومتِ ہند برداشت کرے گی، جبکہ باقی 10 فیصد رقم 1994 کے معاہدے کے مطابق متعلقہ ریاستیں ادا کریں گی۔

امت شاہ نے بتایا کہ اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کی سرحد پر بہنے والی ٹونس ندی پر 232.6 میٹر بلند کنکریٹ گریوٹی ڈیم تعمیر کیا جائے گا، جہاں 1,562 ملین مکعب میٹر پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ اس سے 97 ہزار ہیکٹر اراضی کو آبپاشی کی سہولت ملے گی اور 1,476 ملین یونٹ صاف پن بجلی بھی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ دہلی کو ہوگا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جب جمنا کے پانی کی تقسیم کی گئی تھی تو پالیسی سازوں کی جانب سے ایک بڑی کوتاہی ہوئی۔ جمنا کے ماحولیاتی بہاو¿ کا حساب ہی نہیں کیا گیا اور جتنا پانی دستیاب تھا، وہ تمام ریاستوں کے درمیان تقسیم کر دیا گیا۔ دریا کے لیے پانی چھوڑا ہی نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیشاؤ کثیرالمقاصد منصوبے کے معاہدے سے 25 فیصد پانی دستیاب ہوگا، جو دہلی اور جمنا، دونوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس سے ماحولیات کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ اور مرکزی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل کی موجودگی میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو، راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کیشاو کثیرالمقاصد منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔

امت شاہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں دسواں آبی تنازع ختم ہونے جا رہا ہے۔ ان کی قیادت میں گزشتہ 50 برس سے چلے آ رہے سنگین تنازعات کو ختم کرنے کی مہم جاری ہے۔ سب سے پہلے اگست 2018 میں لکھوار کثیرالمقاصد منصوبے کا تنازع ختم ہوا۔ اسی ماہ شاہ پور کنڈی ڈیم منصوبے کا تنازع بھی حل کیا گیا۔ 2019 میں بالائی جمنا طاس کے رینوکا جی کثیرالمقاصد ڈیم منصوبے کا تنازع ختم ہوا۔ 2021 میں کین-بیتوا لنک منصوبے پر مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے درمیان معاہدہ ہوا، جس سے بندیل کھنڈ جیسے پانی کی قلت والے علاقے کو فائدہ پہنچا۔ ترمیم شدہ پاروتی-کالی سندھ-چمبل ریور لنک منصوبہ 2024 میں آگے بڑھا۔ ہتھنی کنڈ سے زیرِ زمین پائپ لائن کے ذریعے جمنا تک پانی منتقل کرنے کے منصوبے کو فروری 2024 میں منظوری دی گئی۔ نرمدا منصوبے سے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کا تنازع جولائی 2026 میں ختم ہوا۔ سون طاس میں بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازع اگست 2026 میں حل ہوا اور اب کیشاو¿ کثیرالمقاصد منصوبے پر بھی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande