
بیجنگ، 15 ستمبر (ہ س)۔ چین نے تائیوان کے حکام اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک کے درمیان کسی بھی طرح کے سرکاری رابطے کی سخت مخالفت کی ہے۔ چین نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی طاقت کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کون نے پیر کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران یہ بیان دیا۔ وہ ایک میڈیا رپورٹ پر ردعمل ظاہر کر رہے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ پاناما کے کچھ اراکین پارلیمنٹ نے حال ہی میں نام نہاد ’’پاناما-تائیوان پارلیمانی تبادلہ گروپ‘‘ تشکیل دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اراکین پارلیمنٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اس گروپ کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔
تاہم، پاناما کے صدر جوزے راؤل مولینو نے اس معاملے پر کہا ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی اور بیرونی تعلقات کا فیصلہ انتظامیہ یعنی حکومت کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اراکین پارلیمنٹ کا تائیوان کے ساتھ رابطہ ہونا ضروری نہیں کہ اسے پاناما حکومت کی حمایت سمجھا جائے۔
گو جیا کون نے کہا کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان چین کے علاقے کا ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ انہوں نے بعض سیاست دانوں سے تائیوان کے معاملے کی حقیقت کو سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس معاملے میں ’’حد پار کرنے‘‘ کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
چینی ترجمان نے نام نہاد پارلیمانی تبادلہ گروپ کی تشکیل کو ’ایک چین‘ کے اصول کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے پاناما حکومت کے بیان کا نوٹس لیا ہے اور امید کرتا ہے کہ پاناما چین-پاناما تعلقات کی سیاسی بنیاد کو برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا اور ’ایک چین‘ کے اصول کے تئیں اپنی وابستگی کا احترام کرے گا۔
چین نے اس معاملے پر امریکہ کو بھی خبردار کیا ہے۔ گو نے امریکہ سے ’ایک چین‘ کے اصول اور چین-امریکہ کے درمیان طے پانے والے تین مشترکہ بیانات کی پاسداری کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے امریکہ سے ’تائیوان کی آزادی‘ کا مطالبہ کرنے والی علیحدگی پسند طاقتوں کو غلط پیغام دینا بند کرنے اور چین-پاناما تعلقات میں مداخلت یا انہیں نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں سے دور رہنے کی اپیل کی۔
چین طویل عرصے سے تائیوان کے ساتھ دیگر ممالک کے سرکاری رابطوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ بیجنگ تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ مانتا ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت خود کو جمہوری طور پر چلنے والی خود مختار حکومت قرار دیتی ہے۔ اسی معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے درمیان بھی طویل عرصے سے کشیدگی برقرار ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد