امریکہ کا خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کا پہلی بار باضابطہ اعتراف
واشنگٹن ،15ستمبر (ہ س )۔ امریکہ نے خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کا پہلی بار باضابطہ اعتراف کر لیا ہے۔امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک کا کہنا ہے کہ دشمن کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مدار میں موجود یہ ہتھ
امریکہ کا خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کا پہلی بار باضابطہ اعتراف


واشنگٹن ،15ستمبر (ہ س )۔

امریکہ نے خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کا پہلی بار باضابطہ اعتراف کر لیا ہے۔امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک کا کہنا ہے کہ دشمن کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مدار میں موجود یہ ہتھیار ضروری تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایئر اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مینک نے کہا کہ امریکہ بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے اس ہتھیار کی صلاحیتوں یا اسے مدار میں کب بھیجا گیا، اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکی اسپیس فورس کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ یہ ہتھیار ضرورت پڑنے پر دشمن کے اثاثوں کو مفلوج یا تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں (combatant commands) کی ہدایت پر جارحانہ و دفاعی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے گراو¿نڈ گولڈن ڈوم دفاعی نظام کے تحت خلاء میں تعینات یہ ہتھیار اور انٹرسیپٹر میزائل امریکی دفاع کا کلیدی حصہ ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 1967ء کے ایک معاہدے کے تحت مدار میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande