ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کو بھاری نقصان، ہتھیاروں کے ذخائر میں بھی کمی، پینٹاگون کی رپورٹ میں دعویٰ
تہران، 15 ستمبر (ہ س)۔ ایران کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والے براہِ راست فوجی تنازع میں امریکا کو بڑے پیمانے پر فوجی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی حکومت کے ایک نگران ادارے کی نئی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں مغربی ای
جنگ


تہران، 15 ستمبر (ہ س)۔ ایران کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والے براہِ راست فوجی تنازع میں امریکا کو بڑے پیمانے پر فوجی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی حکومت کے ایک نگران ادارے کی نئی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں مغربی ایشیا کے آٹھ ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں کی سیکڑوں عمارتیں اور دیگر اہم تنصیبات یا تو تباہ ہو گئیں یا انہیں نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ امریکی فوج کے اہم گولہ بارود اور جدید میزائل شکن نظام کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

ایرانی سرکاری بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک پریس ٹی وی اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں 28 فروری سے 30 جون تک کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)، محکمہ خارجہ اور امریکی ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (یو ایس ایڈ) کے انسپکٹر جنرل کے دفاتر سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے متاثر ہوئے۔ بڑی تعداد میں عمارتوں اور فوجی تنصیبات کے علاوہ اہم فوجی اثاثوں کو بھی نقصان پہنچا۔

حملوں میں میزائل دفاعی ریڈار نظام سمیت متعدد اہم فوجی سازوسامان تباہ ہوئے۔ رپورٹ میں درجنوں امریکی طیاروں اور ڈرونز کے نقصان یا تباہ ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کا سب سے اہم پہلو امریکی ہتھیاروں کے ذخیرے سے متعلق ہے۔ اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جنگ کے دوران امریکا کے اہم گولہ بارود کے ذخیرے میں کمی واقع ہوئی۔

ماہرین کے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید میزائلوں اور انٹرسیپٹرز کے ذخیرے کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں امریکی دفاعی صنعت کو تین سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

ایرانی اور اس کے اتحادی عناصر کے حملوں کے بعد سینٹ کام کو خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار میں تبدیلی کرنا پڑی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی کمانڈ نے متعدد مقامات سے اہلکاروں، فوجی سازوسامان اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو دوسری جگہ منتقل کیا۔ اسی عمل کے تحت عراق اور کویت سے طبی انخلا کے لیے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر بھی ہٹا دیے گئے۔ اس کے بعد زخمیوں کو اسپتالوں تک پہنچانے کے لیے زیادہ تر زمینی راستوں کا سہارا لینا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق بحرین میں امریکی بحریہ کے علاقائی مرکز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امریکی فوج کے لیے مناسب بحری اڈے اور معاون بندرگاہیں دستیاب رکھنا مشکل ہو گیا۔ اس کے بعد امریکا کو بحر ہند میں واقع ڈیاگو گارسیا کو سمندری رسد کے مرکز کے طور پر استعمال کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں فوجی سازوسامان کی دوبارہ فراہمی کا وقت بڑھ کر تقریباً 14 سے 18 دن ہو گیا۔

رپورٹ میں مغربی ایشیا میں امریکی سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ایرانی جوابی حملوں سے امریکی سفارتی مراکز کو تقریباً 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچا۔

عراق میں امریکی تنصیبات پر 600 سے زائد حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا، جس کے باعث سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والے مالی نقصان کے لحاظ سے عراق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا مقام رہا۔

مارچ کے آغاز میں ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے کے احاطے کو بھی ڈرون حملے میں نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق دبئی میں امریکی قونصل خانے کی ایک یوٹیلیٹی عمارت بھی ڈرون حملے میں متاثر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق 23 فروری سے 30 جون کے درمیان تقریباً 3,500 امریکی سفارتی اہلکار مغربی ایشیا کے خطے سے باہر تھے۔ متعدد امریکی سفارتی مشن محدود عملے کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ بحرین، عراق، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔

امریکی نگران ادارے نے عندیہ دیا ہے کہ مغربی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی میں کی جانے والی بعض تبدیلیاں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ امریکی فوجی اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان خطے میں امریکی اہلکاروں اور تنصیبات کی تعداد میں طویل مدتی کمی کے امکان پر بھی غور کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande