
تل ابیب، 14 ستمبر (ہ س)۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے سابق چیف آف اسٹاف ڈین ہلوٹز نے وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے قبل ملنے والی ممکنہ وارننگز کو چھپایا۔ ہلوٹز نے اسرائیل کی سیکیورٹی میں ہونے والی ناکامی کی سیاسی ذمہ داری براہِ راست نتن یاہو پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ حملے سے پہلے کئی اشارے موجود تھے، لیکن ان پر مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔
روس کے بین الاقوامی نیوز ٹیلی ویڑن نیٹ ورک رشیا ٹوڈے (آر ٹی) کے مطابق، ہلوٹز کا یہ بیان اخبار ہاریٹز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر محمد بن زاید نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے تقریباً دس دن پہلے نتن یاہو کو حماس کی جانب سے ایک بڑے آپریشن کی تیاری کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، نتن یاہو نے مبینہ طور پر اس خطرے کو کم اہمیت دی اور سیکیورٹی سربراہوں کو اس بارے میں اطلاع نہیں دی۔
تاہم، نتن یاہو کے دفتر نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ”بالکل جھوٹ“ قرار دیا ہے۔ یو اے ای کی جانب سے اس مبینہ گفتگو کی نہ تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید۔
اسرائیلی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہلوٹز نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نتن یاہو اور یو اے ای کی قیادت کے درمیان ایسی گفتگو ہوئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وزیر اعظم کو حماس کی تیاریوں کے بارے میں سیکیورٹی حکام کے مقابلے میں زیادہ معلومات تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ گفتگو ہوئی ہی نہ ہوتی تو یو اے ای کے رہنما کے لیے اس کی تردید کرنا آسان ہوتا۔ ان کے مطابق، موجودہ اشارے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ نتن یاہو کو حملے کے خدشے کے بارے میں کتنی معلومات تھیں اور انہوں نے یہ معلومات کس حد تک دوسروں کے ساتھ شیئر کیں۔
ہاریٹز کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیت کو حماس کے اس وقت کے رہنما یحییٰ سنوار کی سرگرمیوں کے بارے میں الگ وارننگ ملی تھی۔ مبینہ طور پر سنوار ایک ”زلزلے“ اور ”خوفناک آپریشن“ کی تیاری کر رہے تھے اور نتن یاہو کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، بعد میں ہونے والے سیکیورٹی جائزے میں شن بیت نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل ”تصادم کی صورتحال“ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایجنسی نے غزہ اور مغربی کنارے کے اطراف ممکنہ بڑے حملے کی صورت میں کارروائی اور سیکیورٹی انتظامات مضبوط کرنے کی سفارش بھی کی تھی۔ تاہم، مبینہ طور پر کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا گیا۔
ہلوٹز نے تسلیم کیا کہ 7 اکتوبر کی سیکیورٹی ناکامی کئی سطحوں پر ہوئی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ ترین سطح پر اجلاسوں کو کسی ٹھوس فیصلے تک نہ پہنچانے کی آخری ذمہ داری وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ ایک فلم سے کرتے ہوئے کہا کہ معاون اداکاروں پر بار بار الزام لگایا جا سکتا ہے، لیکن اگر فلم خراب ہو جائے تو آخرکار ذمہ داری مرکزی کردار پر عائد ہوتی ہے۔
ہلوٹز نے یہ بھی کہا کہ وہ نتن یاہو کے مبینہ فیصلوں کے پیچھے موجود سوچ کو نہیں سمجھ سکتے اور اس بارے میں صرف وزیر اعظم ہی بتا سکتے ہیں کہ اس وقت ان کے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔
دوسری جانب، وزیر اعظم نتن یاہو نے ہاریٹز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ ان کے دفتر کے مطابق، نیشنل سیکیورٹی کونسل اور وزیر اعظم کے فوجی سیکریٹری کی جانب سے کیے گئے جائزے میں یو اے ای کے رہنما کے ساتھ مبینہ گفتگو کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مبینہ طور پر اپنے وکلا کو ہاریٹز اور رپورٹ تیار کرنے والے صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے میں اسرائیل میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد غزہ میں وسیع پیمانے پر جنگ شروع ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں فلسطینی ہلاک ہوئے اور شدید انسانی بحران پیدا ہوا۔
یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں سیاسی دباو اور 7 اکتوبر کی سیکیورٹی ناکامی کی ذمہ داری کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ نتن یاہو حکومت کے حامی اور مخالف دونوں ہی حملے سے پہلے ملنے والی انٹیلی جنس معلومات اور ان پر کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ہندستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی