ٹرمپ نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار زیلنسکی کو ٹھہرا دیا
واشنگٹن، 14 ستمبر (ہ س)۔ امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے لیے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ روس کی تیل ریفائنریوں اور ایندھن سے متعلق تنصیبات پر یوکرین کے مسلس
ایندھن


واشنگٹن، 14 ستمبر (ہ س)۔ امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے لیے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ روس کی تیل ریفائنریوں اور ایندھن سے متعلق تنصیبات پر یوکرین کے مسلسل حملوں کے باعث عالمی ایندھن مارکیٹ پر دباو¿ بڑھ رہا ہے۔

روس کے بین الاقوامی نیوز ٹیلی ویڑن نیٹ ورک رشیا ٹوڈے (آر ٹی) کے مطابق، امریکا میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت اس ہفتے پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔ جمعے کو قیمت 6 ڈالر سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ تقریباً 5.85 ڈالر فی گیلن تھی۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں ڈیزل کی قیمت تقریباً 3.71 ڈالر فی گیلن تھی۔

آئرلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے زیلنسکی کے سامنے ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے یوکرینی قیادت سے اپیل کی کہ وہ روس میں ڈیزل کی پیداوار سے متعلق تنصیبات کو نشانہ نہ بنائے۔

ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے پاس روس میں حملے کے لیے کئی دوسرے اہداف موجود ہیں، لیکن ڈیزل ایندھن سے متعلق تنصیبات پر حملوں سے عالمی سطح پر ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں موجودہ اضافہ بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور امریکا-ایران کشیدگی کی وجہ سے ہے۔ اس کے بجائے انہوں نے روس-یوکرین جنگ اور یوکرین کے حملوں کو قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا۔

تاہم، مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے پیچھے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اہم عوامل ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔

یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کی تیل ریفائنریوں اور پٹرولیم تنصیبات پر کئی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں سے روس کے بعض علاقوں میں ایندھن کی دستیابی متاثر ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ تاہم، دستیاب معلومات کے مطابق ان حملوں کا اثر پٹرول کے مقابلے میں ڈیزل پر زیادہ رہا ہے۔

ملکی مارکیٹ میں ایندھن کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے روس نے پٹرول، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر عارضی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ڈیزل کی برآمدات پر پابندی پہلے عائد کی گئی تھی، جبکہ بعد میں اسے پٹرول پیدا کرنے والے اداروں تک بھی بڑھا دیا گیا۔ کہا گیا ہے کہ ڈیزل کی برآمدات پر موجودہ پابندی ستمبر کے آخر تک جاری رہے گی اور اس میں مزید توسیع کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں کا اثر صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے تک محدود نہیں ہے۔ زرعی مشینری، مال بردار ٹرک اور مال گاڑیاں بڑے پیمانے پر ڈیزل پر انحصار کرتی ہیں۔ اس لیے ایندھن کی قیمت بڑھنے کا براہِ راست اثر زرعی پیداوار، خوراک کی نقل و حمل اور سپلائی چین کی لاگت پر پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، غذائی اشیا کی مجموعی لاگت میں ایندھن کا حصہ مختلف علاقوں اور مصنوعات کے لحاظ سے کافی مختلف ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اگر ڈیزل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو اس کا اثر بالآخر امریکی صارفین کی جیب پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ڈیزل کی قیمتوں کے حوالے سے ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس-یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی تیل کی فراہمی سے متعلق غیر یقینی صورتحال بین الاقوامی توانائی مارکیٹ پر مسلسل دباو¿ ڈال رہی ہے۔

ہندستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande