اے ایم یو میں دنیا بھر کے اینستھیزیا ماہرین کا اجتماع، اے آئی پر ماہرین کا غور و خوض
علی گڑھ, 13 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبۂ اینستھیسیولوجی و کریٹیکل کیئر کے زیر اہتمام انڈین کالج آف اینستھیسیولوجسٹس کی ساتویں بین الاقوامی اور 17ویں قومی کانفرنس میں ملک و بیرون ملک سے آئے اینستھیزیا
انیتھیولوجی


علی گڑھ, 13 ستمبر (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبۂ اینستھیسیولوجی و کریٹیکل کیئر کے زیر اہتمام انڈین کالج آف اینستھیسیولوجسٹس کی ساتویں بین الاقوامی اور 17ویں قومی کانفرنس میں ملک و بیرون ملک سے آئے اینستھیزیا کے ماہرین نے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، پریسیزن اینستھیسیا اور مریضوں کی بہتر نگہداشت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

کانفرنس کے ڈین ڈاکٹر پردیپ جین نے بتایا کہ دو روزہ کانفرنس میں 300 سے زائد مندوبین اور 100 فیکلٹی ممبران نے شرکت کی، جن میں امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور سنگاپور سمیت مختلف ممالک سے آنے والے تقریباً 20 فیکلٹی ممبران شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اینستھیسیا کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا، جبکہ 19 افراد کو امتحان پر مبنی فیلوشپ اور دو افراد کو اعزازی فیلوشپ بھی دی گئی۔

ڈاکٹر پردیپ جین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا طبی شعبے میں کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ ڈاکٹروں کے لیے ایک مؤثر معاون ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اے آئی انسانی دماغ کا متبادل نہیں بن سکتی۔ طبی معاملات میں حتمی فیصلہ انسانی تجربے، طبی بصیرت اور ڈاکٹر کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کی بنیاد پر ہی ہوگا۔

کانفرنس کے آرگنائزنگ چیئرمین پروفیسر حماد عثمانی نے کہا کہ اے ایم یو میں اس نوعیت کی بین الاقوامی کانفرنس پہلی مرتبہ منعقد کی گئی ہے۔ 11 ستمبر کو پانچ مختلف موضوعات پر ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا، جن میں 100 سے زائد مندوبین نے شرکت کی، جبکہ 12 اور 13 ستمبر کو مرکزی کانفرنس میں پریسیزن بیسڈ اینستھیسیا اور اسمارٹ اینستھیسیا کے مختلف پہلوؤں پر ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروفیسر حماد عثمانی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مریض کو اس کی ضرورت کے مطابق درست مقدار میں اینستھیسیا دینے، علاج کے دوران اس کی حالت کی بہتر نگرانی کرنے اور سرجری کے بعد جلد صحت یابی میں مدد فراہم کرنے کے امکانات پر ماہرین غور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ سسٹم، روبوٹک اسسٹنس اور پریسیزن ڈوز ٹیکنالوجی مستقبل میں اینستھیسیا کو مزید محفوظ اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر عبید اے صدیقی نے کہا کہ کانفرنس کے ذریعے ملک اور بیرون ملک کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے ساتھ نوجوان ڈاکٹروں اور محققین کو اینستھیسیا کے شعبے میں ہونے والی جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ جدید طبی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال مریضوں کی بہتر نگہداشت اور علاج کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، تاہم طبی شعبے میں انسانی تجربہ، مہارت اور مریض کے تئیں ہمدردانہ رویہ ہمیشہ بنیادی اہمیت رکھے گا۔

پی وی سی پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ عالمی سطح کے طبی ماہرین کو اے ایم یو میں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی نگہداشت کے شعبے میں یونیورسٹی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح کی کانفرنسیں طلبہ اور نوجوان ڈاکٹروں کو عالمی سطح کی جدید طبی پیش رفت سے براہ راست واقف ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

کانفرنس میں امریکن سوسائٹی آف اینستھیسیولوجسٹس کے صدر ڈاکٹر پیٹرک جیم، سوسائٹی فار ایمبولیٹری اینستھیسیا کے صدر ڈاکٹر فریڈ شاپیرو اور انڈین کالج آف اینستھیسیولوجسٹس کے انٹرنیشنل ڈین ڈاکٹر کمار جی بیلانی کے ویڈیو خطابات بھی شامل رہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر منورما متل یادگاری خطبہ، ڈاکٹر اشوک کمار سکسینہ اور ڈاکٹر وی پی کُمرا یادگاری خطبہ بھی منعقد ہوئے، جس میں ڈاکٹر مکل چندر کپور نے خطاب کیا۔

کانفرنس کے دوران صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل بایومارکرز، کریٹیکل کیئر، ٹراما مینجمنٹ، پریسیزن پین میڈیسن، سیپسس کے علاج اور اعصابی نشوونما جیسے موضوعات پر پینل مباحثے اور سائنسی سیشنز منعقد کیے گئے۔ پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے خصوصی نشستوں کے علاوہ کوئز مقابلہ، ای پوسٹر اور فری پیپر پریزنٹیشن بھی منعقد کی گئی۔

کانفرنس سے متعلق ’’آئی سی اے کون 26 کمپینین‘‘ کے نام سے ایک خصوصی ایپ بھی لانچ کی گئی، جس میں مندوبین کی سہولت کے لیے کانفرنس کے پروگرام اور دیگر ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس موقع پرسینئر اساتذہ، ڈاکٹروں، محققین، طلبہ اور ملک و بیرون ملک سے آئے مندوبین موجود رہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande