پانچ روزہ بینکنگ کے مطالبے کو لے کر آج بینکوں کا ہڑتال
کولکاتا، 11 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال میں پانچ روزہ بینکنگ نظام نافذ کرنے کے مطالبے کو لے کر ملک بھر میں بینک ملازمین اور افسران ہڑتال پر جانے کی تیاری میں ہیں۔ بینکنگ سیکٹر کی یونینوں کی جانب سے حکومت پر پانچ روزہ بینکنگ نظام نافذ کرنے کے لیے دبا
فائل فوٹو


کولکاتا، 11 ستمبر (ہ س)۔

مغربی بنگال میں پانچ روزہ بینکنگ نظام نافذ کرنے کے مطالبے کو لے کر ملک بھر میں بینک ملازمین اور افسران ہڑتال پر جانے کی تیاری میں ہیں۔ بینکنگ سیکٹر کی یونینوں کی جانب سے حکومت پر پانچ روزہ بینکنگ نظام نافذ کرنے کے لیے دباو ڈالا جا رہا ہے۔ آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن کے نائب صدر سُبھروجیوتی چٹرجی نے کہا کہ جمعہ کی بینک ہڑتال کا بنیادی مسئلہ پانچ روزہ بینکنگ نظام نافذ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے اس معاملے پر پہلے ہی 30-29-28 ستمبر کو تین روزہ ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو 26 اکتوبر سے مسلسل ہڑتال شروع کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بینک یونینوں کے کئی دیگر مطالبات بھی ہیں، لیکن اس وقت پانچ روزہ بینکنگ نظام نافذ کرنا سب سے اہم مطالبہ ہے۔

سُبھروجیوتی چٹرجی نے دعویٰ کیا کہ پانچ روزہ بینکنگ نظام کی تجویز کو حکومت پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں ہونے والے دو طرفہ معاہدے اور بینکنگ انڈسٹری کی تنخواہوں پر نظرِ ثانی کے معاہدے کے دوران پانچ روزہ بینکنگ کو لے کر اتفاقِ رائے قائم ہوا تھا۔ اس کے باوجود اب تک اسے مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ بینک افسران کا کہنا ہے کہ ہفتے میں پانچ دن بینکنگ نظام نافذ ہونے سے بینک ملازمین کو ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ملے گی۔ یونینوں کا استدلال ہے کہ اس سے ملازمین کے کام اور ذاتی زندگی کے توازن (ورک لائف بیلنس) میں بہتری آئے گی، جبکہ صارفین کو ڈیجیٹل بینکنگ اور دیگر آن لائن خدمات کے ذریعے مسلسل بینکنگ سہولیات دستیاب رہیں گی۔

بینک یونینوں نے حکومت سے پانچ روزہ بینکنگ نظام کو نافذ کرنے کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ مطالبے پر مثبت فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں تحریک کو مرحلہ وار طریقے سے مزید وسعت دی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande