ای ڈی کا بینک دھوکہ دہی کے دو مقدمات میں سات ریاستوں میں چھاپہ
نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آج بینک دھوکہ دہی اور قرض کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق دو معاملات میں بہار، ہریانہ، دہلی، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کرناٹک اور تلنگانہ میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ ای ڈی کے پٹنہ زون
ای ڈی لوگو


نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آج بینک دھوکہ دہی اور قرض کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق دو معاملات میں بہار، ہریانہ، دہلی، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کرناٹک اور تلنگانہ میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ ای ڈی کے پٹنہ زونل دفتر نے بہار کے گیا میں واقع رام نندی ہوٹلس اینڈ ریزورٹس لمیٹڈ سے متعلق معاملے میں پی ایم ایل اے کی دفعہ 17 کے تحت گیا، گروگرام اور نئی دہلی میں 9 مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ وہیں کولکاتا زونل دفتر نے اڈیشہ کے اے آر ایس ایس گروپ اور اے ایم آر/ اے ایم آر ایل گروپ سے وابستہ پروموٹرز نیز متعلقہ اداروں کے ٹھکانوں پر کولکاتا، چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد میں کارروائی کی ہے۔ ای ڈی دونوں معاملات میں مبینہ طور پر بینک قرض میں دھوکہ دہی، رقوم کے غلط استعمال، قرض کی ادائیگی میں بے ضابطگی اور لین دین کے ذریعے رقم کو ادھر ادھر منتقل کرنے کی جانچ کر رہا ہے۔

پٹنہ زونل دفتر رام نندی ہوٹلس اینڈ ریزورٹس لمیٹڈ کے بینک فراڈ کیس کی جانچ کر رہا ہے۔ یہ کمپنی گیا میں سرگرم ہے اور اکھوری گوپال اور ان کے بیٹوں نشانت اور نتیش کے کنٹرول میں ہے۔ جانچ کے دوران ایجنسی کو معلوم ہوا کہ سینٹرل بینک آف انڈیا کی قیادت والے کنسورشیم (بینکوں کے گروپ) نے کمپنی کو تقریباً 85 کروڑ روپے کا قرض دیا تھا۔ الزام ہے کہ اس میں سے تقریباً 58 کروڑ روپے کو پروجیکٹ کی تکمیل کی جعلی یا فرضی رپورٹ کی بنیاد پر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ رپورٹ کمپنی کے چارٹرڈ اکاونٹنٹ کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔

ای ڈی کے مطابق، مذکورہ قرض کے لیے اکھوری گوپال اوران کے اہل خانہ نے بینکوں کو ذاتی ضمانت بھی دی تھی۔ متعلقہ گروپ کی ایک اور اکائی کی واجب الادا رقم کے عوض پانچ جائیدادیں ٹاٹا موٹرز لمیٹڈ کے پاس رہن رکھی گئی تھیں۔ جانچ ایجنسی کے مطابق، ان جائیدادوں کو رہن رکھے جانے کے باوجود حال ہی میں فروخت کر دیا گیا۔ فروخت کے دستاویزات میں ان جائیدادوں کی مالیت مبینہ طور پر اصل قیمت سے کافی کم دکھائی گئی اور فروخت کی رقم کو نقد وصولی کے طور پر درج کیا گیا۔

ای ڈی کو چند خریداروں کی مالی صلاحیت پر بھی شبہ ہے۔ ایجنسی کے مطابق، ان میں سے بعض خریدار اتنی بڑی مالیت کی جائیدادیں خریدنے کے لیے درکار رقم کا بندوبست کرنے کے اہل نظر نہیں آتے۔ ایسی صورت میں ان کے اکھوری گوپال کے بے نامی یا پراکسی ہونے کے خدشے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ای ڈی کو شبہ ہے کہ جائیدادوں کی فروخت کا مقصد انہیں ایجنسی کی ممکنہ کارروائی سے بچانے کے لیے الگ کرنا ہو سکتا ہے۔ ایجنسی اس پورے لین دین، جائیدادوں کی اصل قیمت، فروخت سے حاصل شدہ رقم اور خریداروں کے ساتھ مبینہ روابط کی چھان بین کر رہی ہے۔

مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی چارج شیٹ کے مطابق، اس معاملے میں جرم سے حاصل شدہ جائیداد کی رقم تقریباً 131.79 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ رقم نان پرفارمنگ ایسٹس (این پی اے) کی قدر سے متعلق ہے۔ ای ڈی نے اس معاملے میں کل 9 مقامات پر چھاپے مارے ہیں، جن میں گیا میں چھ، گروگرام میں دو اور نئی دہلی میں ایک مقام شامل ہے۔ یہ تلاشی پی ایم ایل اے، 2002 کی دفعہ 17 کے تحت کی جا رہی ہے۔ دوسری کارروائی میں ای ڈی کے کولکاتا زونل دفتر نے اڈیشہ کے اے آر ایس ایس گروپ اور اے ایم آر/ اے ایم آر ایل گروپ سے وابستہ پروموٹرز اور متعلقہ اداروں کے احاطوں پر چھاپے مارے ہیں۔ یہ کارروائی ایس آر ای آئی انفراسٹرکچر فائنانس لمیٹڈ (ایس آئی ایف ایل) اور ایس آر ای آئی ایکوپمنٹ فائنانس لمیٹڈ (ایس ای ایف ایل) سے مبینہ دھوکہ دہی یا بے ضابطہ طریقے سے لیے گئے قرض اور بعد ازاں ان کی عدم ادائیگی سے متعلق جانچ کے تحت کی جا رہی ہے۔ ای ڈی کے مطابق، اے آر ایس ایس گروپ کے سابق پروموٹر اور ڈائریکٹر خاندان کے افراد انل اگروال، راجیش اگروال، سنیل اگروال اور سبھاش اگروال نیز اے ایم آر/ اے ایم آر ایل گروپ سے وابستہ پروموٹر مہیش کمار ریڈی التھورو سے متعلق احاطوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق، پرانے قرض کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے لے کر قرض کو جاری رکھنے، رقم کے مبینہ غلط استعمال، ایک ادارے سے دوسرے ادارے اور پھر واپس رقم منتقل کرنے نیز دیگر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایجنسی یہ بھی معلوم کر رہی ہے کہ قرض سے حاصل ہونے والی رقم کا اصل استعمال کس مقصد کے لیے کیا گیا اور کیا اسے متعلقہ اداروں کے درمیان مبینہ طور پر گھمایا گیا۔ اس معاملے میں کولکاتا، چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد کے مختلف احاطوں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande