
نئی دہلی، 10 ستمبر (ہ س)۔
دہلی ہائی کورٹ نے جی ایس ٹی کے تحت کسی بھی شخص یا ادارے کو رجسٹریشن دینے سے پہلے بایومیٹرک بنیاد پر آدھار تصدیق کو لازمی قرار دینے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس انیل کھیترپال کی سربراہی والی بنچ نے یہ عبوری حکم جاری کیا ہے۔
عدالت نے ملک بھر کے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ آدھار کارڈ کی بایومیٹرک تصدیق کے بغیر جی ایس ٹی رجسٹریشن نہ کیا جائے۔ یہ عرضی نیہا نامی درخواست گزار نے دائر کی تھی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جعلی طریقے سے جی ایس ٹی رجسٹریشن حاصل کیے جا رہے ہیں۔ یہ رجسٹریشن منجمد یا چوری کیے گئے پین اور آدھار کارڈ کے ذریعے کرائے جا رہے ہیں۔ عدالت نے حکومت کو یہ آزادی بھی دی ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر سکتی ہے۔
درخواست گزار نے کہا ہے کہ دھوکہ دہی کے ذریعے اس کے نام پر جی ایس ٹی کے دو رجسٹریشن نمبر حاصل کر لیے گئے۔ یہ دونوں جی ایس ٹی نمبر اس کے پین اور آدھار کا اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرکے حاصل کیے گئے تھے۔ ان جی ایس ٹی نمبروں کے ذریعے درخواست گزار کے پنجاب نیشنل بینک کے اکاؤنٹ سے 4.46 کروڑ روپے کی رقم کا نقصان پہنچایا گیا۔
جب درخواست گزار نے پنجاب نیشنل بینک سے رابطہ کیا تو اسے معلوم ہوا کہ بینک کو جی ایس ٹی کا ایک نوٹس موصول ہوا تھا، جس کے مطابق جی ایس ٹی حکام کو 4.46 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جانی تھی۔ اس کے بعد درخواست گزار نے مارچ میں متعلقہ جی ایس ٹی حکام سے رابطہ کیا۔ جب جی ایس ٹی حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی تو درخواست گزار نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ