برکس سربراہی اجلاس پر کانگریس کے بیان کی بی جے پی نے مذمت کی
نئی دہلی، 10 ستمبر (ہ س)۔ برکس سربراہی اجلاس سے قبل کانگریس رہنما پی. چدمبرم کے بیان کو لے کر بی جے پی نے کانگریس پر شدید حملہ کیا ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ عالمی اے آئی سمٹ کے بعد اب برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی کانگریس ایک بار پھر ملک کے مفاد
برکس سربراہی اجلاس پر کانگریس کے بیان کی بی جے پی نے مذمت کی


نئی دہلی، 10 ستمبر (ہ س)۔

برکس سربراہی اجلاس سے قبل کانگریس رہنما پی. چدمبرم کے بیان کو لے کر بی جے پی نے کانگریس پر شدید حملہ کیا ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ عالمی اے آئی سمٹ کے بعد اب برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی کانگریس ایک بار پھر ملک کے مفادات کے خلاف بیان بازی کر رہی ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سدھانشو تریویدی نے کہا کہ عالمی اے آئی سمٹ میں بھونڈے اور عریاں مظاہرے کے بعد، اپنی عادت سے مجبور کانگریس نے ایک بار پھر برکس سربراہی اجلاس کے موقع پرافسوسناک اور قابلِ مذمت بیان دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم کا یہ کہنا کہ ”برکس سربراہی اجلاس سے کیا حاصل ہوگا؟“ نہ صرف ان کی سوچ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھارت آنے والے متعدد اہم سربراہانِ مملکت سے بھی اپنی سمجھ داری کو بالاتر سمجھ رہے ہیں۔

انہوں نے پی. چدمبرم کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت کے دور میں 2009 میں بھارت پہلی مرتبہ برکس سربراہی اجلاس میں شامل ہوا تھا اور 2012 میں بھارت نے برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ بھارت ڈیجیٹل دور میں آگے نہیں بڑھ سکتا، یہاں کے لوگ کم سمجھ دار ہیں اور بھارت ڈیجیٹل طاقت کیسے بنے گا۔ آج بھارت دنیا کی نمبر ایک ڈیجیٹل طاقت ہے۔

سدھانشو تریویدی نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر کانگریس سے جس طرزِ عمل اور وقار کی توقع کی جاتی تھی، کانگریس مسلسل اس وقار کو مجروح کر رہی ہے۔ چدمبرم صاحب کا بیان اسی کا ثبوت ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande