
نئی دہلی، یکم ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے نیٹ پیپر لیک ہونے کے بعد جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا سمیت اس دوران پانچ ریاستوں میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے اس معاملے میں مزید ایف آئی آر درج کرنے پر بھی روک لگا دی ہے ۔
سپریم کورٹ نے جنتر منتر احتجاج کے دوران دہلی، بہار، مغربی بنگال، مہاراشٹرا اور آسام میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ ان پانچ ریاستوں نے ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے طلبہ کے احتجاج کے سلسلے میں ملک بھر میں درج تمام ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کو 2,873 ان لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آر پر آگے کی کارروائی کرنے کا حکم دیا ، جن کے خلاف پہلے سے سنگین مجرمانہ معاملے درج ہیں۔
سماعت کے دوران، سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہاکہ کاکڑوچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں اور مرکزی حکومت کے نمائندوں کے درمیان 25 جولائی کو ہونے والی میٹنگ میں کیے گئے وعدوں کے مطابق حکومت نے ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہتا کے اس بیان کے بعد، کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے عدالت کو بتایا کہ وہ حکومت کے اس فیصلے کے بعد 5 ستمبر کومجوزہ احتجاج واپس لے رہے ہیں۔ تب چیف جسٹس نے کہا کہ اگر دونوں فریق میں رضامندی قائم ہوتی ہے ، تو کچھ بھی ممکن نہیں ہے ۔ 18 اگست کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے طلبا کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کر نے کی بات کہی تھی۔
مرکزی حکومت نے ایک عرضی داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران مظاہرین کے خلاف درج کی گئی 13 ایف آئی آر کو منسوخ کرنا چاہتی ہے۔
نیٹ پیپر لیک کے انکشاف کے بعد، کاکروچ جنتا پارٹی نے جون میں جنتر منتر پر احتجاج شروع کیا تھا۔ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے بعد اس تحریک نے زور پکڑا۔ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کے دوران ریپڈ ایکشن فورس کی طرف سے لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال کی شکایات موصول ہوئیں۔ بعد میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد یہ احتجاج واپس لے لیا گیا۔ دہلی پولیس نے بھی اس دوران کئی ایف آئی آر درج کی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد