
تل ابیب، یکم ستمبر (ہ س)۔ نوبل انعام یافتہ اسرائیلی سائنسداں اور ایکسرے کرسٹل گرافر ادا یوناتھ 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی موت کا اعلان ویزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس نے کیا، جہاں انہوں نے اپنے سائنسی کیریئر کا بڑا حصہ گزارا تھا۔
ادا یوناتھ کو رائبوسوم کی ساخت اور فنکشن سے متعلق اہم تحقیق کے لیے 2009 میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ ان کی تحقیق نے یہ سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا کہ خلیوں میں پروٹین کیسے بنتے ہیں۔ ان کے کام نے سائنسدانوں کو زیادہ موثر اینٹی بائیوٹکس تیار کرنے اور اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی ہدایات دیں۔
ویزمین انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، ان کی تحقیق اینٹی بائیوٹک مزاحمت سے نمٹنے کی کوشش میں انتہائی اہم ثابت ہوئی، جو 21 ویں صدی کے سنگین طبی چیلنجوں میں سے ایک ہے۔
1939 میں یروشلم میں پیدا ہوئیں یوناتھ کا بچپن مالی مشکلات سے دوچار تھا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی کام کرنا شروع کر دیا، لیکن پڑھائی جاری رکھی۔ 1968 میں، انہوں نے ویزمین انسٹی ٹیوٹ سے ایکسرے کرسٹلگرافی میں پی ایچ ڈی مکمل کی اور اس کے بعد سائنس کے میدان میں قابل ذکر تعاون کیا۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے یوناتھ کو ملک کی سائنسی تاریخ کی اہم شخصیات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے انہیں ایک اہم خاتون سائنسدان قرار دیا جنہوں نے تجسس، لگن اور عزم کے ذریعے سائنسی تحقیق کو فروغ دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد