سپریم کورٹ کے احکامات اور جی ڈی پی کے دعووں پر فاطمی کی تنقید، کہا ۔ صرف دعووں سے مسائل حل نہیں ہوتے
سپریم کورٹ کے احکامات اور جی ڈی پی کے دعووں پر فاطمی کی تنقید، کہا ۔ صرف دعووں سے مسائل حل نہیں ہوتے علی گڑھ، یکم ستمبر (ہ س)، سابق مرکزی وزیر محمد علی اشرف فاطمی نے پیر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کور
علی اشرف فاطمی


سپریم کورٹ کے احکامات اور جی ڈی پی کے دعووں پر فاطمی کی تنقید، کہا ۔ صرف دعووں سے مسائل حل نہیں ہوتے

علی گڑھ، یکم ستمبر (ہ س)، سابق مرکزی وزیر محمد علی اشرف فاطمی نے پیر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات، ملک کی معیشت، حکومت کی پالیسیوں اور اے ایم یو سے متعلق مختلف معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کے حوالے سے فاطمی نے کہا کہ حکومت نے پہلے بھی بعض مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا تھا، لیکن کئی مقامات پر اس پر مکمل عمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اب سپریم کورٹ کی جانب سے ہدایات دی گئی ہیں، اس لیے امید ہے کہ ان معاملات میں مناسب کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو مجرم یا مشتبہ سمجھنے کے بجائے حکومت کو ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نریندر مودی کے ملک کی جی ڈی پی 7.8 فیصد ہونے اور جلد بھارت کے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے دعوے پر فاطمی نے کہا کہ معیشت کا مضبوط ہونا خوش آئند بات ہے، لیکن اس کا فائدہ عام لوگوں تک بھی پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی سہولیات کو لے کر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر معیشت واقعی مضبوط ہو رہی ہے تو عام آدمی کو بھی اس کا فائدہ نظر آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صرف جی ڈی پی بڑھنے کے دعوے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ غریب اور عام طبقے کو بہتر تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اے ایم یو کے ہارس رائیڈنگ کلب کی زمین کے معاملے پر فاطمی نے کہا کہ اگر زمین یونیورسٹی کی ہے تو اے ایم یو انتظامیہ کو عدالت میں مضبوطی کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کوئی حکومت نہیں بلکہ ایک مقامی بلدیاتی ادارہ ہے اور یونیورسٹی کو اس معاملے کا قانونی طور پر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اے ایم یو اپنی زمین کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑے گی۔

جوہر یونیورسٹی اور اے ایم یو کے معاملے میں سیاسی مداخلت کے سوال پر سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ سیاسی لڑائی سیاسی رہنماؤں کے درمیان ہونی چاہیے، تعلیمی اداروں کو سیاست کا مرکز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے یوگی حکومت سے اپیل کی کہ تعلیمی اداروں کے خلاف اس طرح کی کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔ اے ایم یو طلبہ یونین انتخابات کے حوالے سے محمد علی اشرف فاطمی نے کہا کہ یونیورسٹی میں جلد از جلد طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین کے ذریعے طلبہ ہاسٹل، کھیل کود، لائبریری اور دیگر مسائل کو مؤثر طریقے سے یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو طلبہ یونین نے ملک کو کئی بڑے سیاسی اور سماجی رہنما دیے ہیں، اس لیے ان کی خواہش ہے کہ یونیورسٹی میں جلد طلبہ یونین انتخابات کرائے جائیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande