
ہندوستانی مسلم معاشرے کی ترقی کا سب سے مضبوط ذریعہ تعلیم ہے : ڈاکٹر محمد سہیل اختر
علی گڑھ، یکم ستمبر (ہ س)۔ معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے کہا ہے کہ ہندوستانی مسلم معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط مستقبل کے لیے تعلیم کو سب سے بڑی ترجیح بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں اور معاشروں نے علم اور تعلیم کو اپنایا، وہی ترقی اور عزت کی بلندیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ دور علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لیے مسلمانوں کو بھی جدید تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے آغاز ہی سے علم و تعلیم کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور مردوں کے ساتھ خواتین کی تعلیم پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں عظیم علماء اور مفکرین نے علم کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے کر پوری دنیا کو فائدہ پہنچایا۔ یہ تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب مسلمان تعلیم اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھتے ہیں تو وہ پوری انسانیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سہیل اختر نے کہا کہ آج ہندوستانی مسلم معاشرے کو تعلیمی پسماندگی، معاشی کمزوری اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں، خصوصاً بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے روشن مستقبل کی بنیاد بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج صرف روایتی تعلیم کافی نہیں بلکہ مسلم نوجوانوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے تعلیمی مواقع، اسکالرشپ اور رہنمائی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے مسلم قیادت، سماجی تنظیموں اور دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کریں اور مدارس و جدید تعلیمی اداروں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو ہندوستانی مسلم معاشرے کو پسماندگی سے نکال کر ترقی، خود اعتمادی اور روشن مستقبل کی جانب لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر خاندان کو اپنے بچوں کی تعلیم کو ترجیح دے کر ایک باشعور، مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ