
نئی دہلی، 7 اگست (ہ س)۔ جنوبی دہلی کے تگڑی تھانہ علاقے میں ایک باپ پر اپنی ہی بیٹی کے قتل کا الزام عائد ہوا ہے۔ پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ شادی سے قبل بیٹی کے حمل کا انکشاف ہونے پر باپ کو سماجی بدنامی کا خدشہ تھا۔ اس لیے وہ ایک رشتہ دار کے ساتھ اپنی بیٹی کو آگرہ کے قریب دریائے چمبل کے کنارے لے گیا اور مبینہ طور پر اسے دریا میں ڈبو دیا۔ پولیس نے اس معاملے میں ملزم باپ لکھپت سنگھ اور اس کے رشتہ دار کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم لڑکی کی لاش ابھی تک برآمد نہیں ہو سکی ہے۔
جنوبی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس اننت متل نے جمعہ کو بتایا کہ 31 جولائی کو تگڑی پولیس اسٹیشن کو ایک لڑکی کے اس کے والد کے ذریعہ قتل کی رپورٹ موصول ہوئی تھی۔ اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے اغوا اور قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔ تفتیش کے دوران، پولیس کو معلوم ہوا کہ لڑکی کے حاملہ ہونے کی بات سامنے آنے کے بعداس کے والد کو سماجی بدنامی کا ڈر ستانے لگا۔
پولیس تحقیقات میں الزام لگایا گیا ہے کہ لکھپت سنگھ نے ایک رشتہ دار کے ساتھ مل کر لڑکی کو راستے سے ہٹانے کی ۔ اس کے بعد وہ اسے آگرہ کے باسونی کے قریب دریائے چمبل کے کنارے لے گئے جہاں اسے مبینہ طور پر جان بوجھ کرغرقاب کر دیا گیا۔ واقعہ کے بعد وہ واپس آگئے اور واقعہ کو چھپانے کی کوشش کی۔
تفتیش کے دوران، پولیس نے دستیاب شواہد اور ان سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر دونوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس اب اس قتل کی تمام کڑیاں جوڑ کر واقعہ میں استعمال کئے گئے ذرائع اوردیگر پہلوو¿ں کی تفتیش کر رہی ہے۔
ندی میں لاش کی تلاش جاری
لڑکی کی لاش تاحال برآمد نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس نے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی مدد سے دریائے چمبل میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی ہے۔ دریا کی موجودہ صورتحال اور علاقے کے جغرافیائی حالات کے پیش نظر لاش کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تلاش جاری ہے اور تحقیقات کی بنیاد پر کیس میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد