
کولکاتا، 31 اگست (ہ س)۔ بھارت اور روس کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ ترقی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے سے دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں، طلبہ، تکنیکی اداروں اور صنعتی دنیا کے درمیان بہتر تال میل دو طرفہ تعلقات کو نئی سمت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ بات ولادیمیر گونچار نے پیر کو کہی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت، روس اور یورپ کے درمیان طویل عرصے سے طلبہ کی آمدورفت نے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کی مضبوط بنیاد تیار کر دی ہے۔ بڑی تعداد میں طلبہ اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے ان ممالک کا رخ کرتے رہے ہیں۔ اس موجودہ تعلیمی رابطے کو وسیع تر تعاون میں تبدیل کرنے کے کافی امکانات موجود ہیں۔
گونچار نے کہا کہ تکنیکی تعاون کا آغاز یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں سے ہوتا ہے۔ انہی اداروں میں نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور ہنرمند پیشہ ور افراد کی تیاری کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ایسے میں بھارت اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ طور پر نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے روس میں زیر تعلیم بھارتی طلبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک ہزار سے زیادہ بھارتی طلبہ روس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد طبی تعلیم سے وابستہ ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں طلبہ مختلف دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گونچار نے کہا کہ روس سے تعلیم حاصل کرکے بھارت واپس آنے والے طلبہ جدید ٹیکنالوجی، طریقۂ کار اور پیشہ ورانہ تجربے سے حاصل ہونے والے فوائد کو بھارتی معاشرے تک پہنچا سکتے ہیں۔ یہ تعاون صرف دفاع یا اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے ایسے کاروباری ہنر اور تکنیکی شعبوں تک بھی وسعت دی جانی چاہیے، جن کا براہ راست فائدہ معاشرے اور عام لوگوں کو پہنچ سکے۔
انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم کو بھی بھارت-روس تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیا۔ ان کے مطابق روس کی تقریباً 20 یونیورسٹیاں پہلے ہی مختلف سطحوں پر تعلیمی تعاون میں شامل ہیں۔ بھارتی طلبہ کے لیے انجینئرنگ، تکنیکی ترقی اور اس سے متعلق دیگر مضامین میں روس میں تعلیم حاصل کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
گونچار نے کہا کہ طلبہ کا تبادلہ یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں سمتوں میں ہونا چاہیے۔ جس طرح بھارتی طلبہ روس جا کر تعلیم اور تربیت حاصل کر رہے ہیں، اسی طرح روسی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے بھی بھارتی یونیورسٹیوں اور اداروں میں آنے کے مواقع بڑھائے جانے چاہئیں۔ اس سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو سمجھنے اور طویل مدتی شراکت داری فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم صرف طلبہ اور پیشہ ور افراد کو یونیورسٹیوں اور پیشہ ورانہ تعلیم تک رسائی فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو ٹیکنالوجی تیار کرنے اور نئے خیالات پر کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔
گونچار نے تعلیمی اداروں اور صنعتی دنیا کے درمیان مضبوط رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقی اور تکنیکی اداروں میں تیار ہونے والے خیالات کو عملی شکل دینے کے لیے کاروباری اداروں کے ساتھ ان کا جڑنا ضروری ہے۔ یونیورسٹیوں، تکنیکی ماہرین اور صنعتوں کے درمیان بہتر تال میل سے نئی ٹیکنالوجیز کو تحقیق کی سطح سے نکال کر عملی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
گونچار نے کہا کہ بھارت-روس تعاون کا حتمی مقصد صرف ادارہ جاتی تعلقات کو مضبوط کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کی مہارتوں اور مواقع کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔ طلبہ، یونیورسٹیوں، کاروباری اداروں اور تکنیکی اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرکے دونوں ممالک نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اقتصادی اور تکنیکی ترقی کو بھی رفتار دے سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد