بھارت-روس تکنیکی شراکت داری کو برابری کی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہوگا: دیب جیت چکرورتی
کولکاتا، 31 اگست (ہ س): ۔ بھارت اور روس کو روایتی ٹیکنالوجی منتقلی کے ماڈل سے آگے بڑھتے ہوئے مشترکہ ترقی، دیسی کاری، مشترکہ تحقیق اور دونوں ممالک کی ضروریات کے مطابق تکنیکی حل تیار کرنے پر مبنی گہری اور برابری کی شراکت داری کی سمت آگے بڑھنا چاہیے۔
بھارت-روس تکنیکی شراکت داری کو برابری کی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہوگا: دیب جیت چکرورتی


کولکاتا، 31 اگست (ہ س): ۔

بھارت اور روس کو روایتی ٹیکنالوجی منتقلی کے ماڈل سے آگے بڑھتے ہوئے مشترکہ ترقی، دیسی کاری، مشترکہ تحقیق اور دونوں ممالک کی ضروریات کے مطابق تکنیکی حل تیار کرنے پر مبنی گہری اور برابری کی شراکت داری کی سمت آگے بڑھنا چاہیے۔ یہ بات بھارت-روس ’اینوپریکٹیکا‘ ٹیکنالوجی سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر دیب جیت چکرورتی نے پیر کو کہی۔

کولکاتا میں منعقدہ ’سمپرک-بھارت روس دو طرفہ کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے چکرورتی نے کہا کہ عالمی تکنیکی اور اقتصادی منظرنامے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں نے بھارت اور روس کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع، تحقیق، تعلیم اور صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے بڑے مواقع پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کی بھارت-روس تکنیکی شراکت داری کسی ایک ملک کی جانب سے ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور دوسرے ملک کی جانب سے اسے اپنانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ دونوں ممالک کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے مشترکہ قدر پیدا کرنا ضروری ہے۔

چکرورتی نے کہا، ”ہم برابری کی شراکت داری کی بات کر رہے ہیں۔ یہ صرف روس کی ٹیکنالوجی بھارت لانے یا بھارت کی ٹیکنالوجی روس لے جانے تک محدود نہیں ہے۔ ہمارا مقصد صحیح ٹیکنالوجیز کی شناخت کرنا، مناسب شراکت داروں کو ساتھ لانا اور ایسے حل تیار کرنا ہے جن سے دونوں ممالک میں قدر پیدا ہوسکے۔“

انہوں نے بھارت کے تیزی سے مضبوط ہوتے تکنیکی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں انجینئروں، محققین، صنعت کاروں اور ہنرمند پیشہ ور افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ بھارت کی تکنیکی اور صنعتی صلاحیتیں روس کی جدید سائنسی و تکنیکی مہارت کے ساتھ مل کر نئے مواقع پیدا کرسکتی ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ بھارت-روس تکنیکی تعاون کو محض لین دین پر مبنی تعلقات کے طور پر نہیں بلکہ طویل مدتی شراکت داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مشترکہ علم، مشترکہ ترقی، مقامی کاری، سرمایہ کاری اور وسیع تر بازاروں تک رسائی پر مبنی نئے ماڈل کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande