امریکی فوج کی ایران کے لارک جزیرے پربمباری، ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پرجوابی حملہ
عمان/تہران/واشنگٹن، 31 اگست (ہ س)۔ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں واقع ایران کے لارک جزیرے پر امریکی بمباری کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔ امریکہ نے تقریباً ایک ماہ بعد ایران کے خلاف بڑا حملہ کیا، جس کے بعد ایرانی فوج
امریکی فوج کی ایران کے لارک جزیرے پربمباری، ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پرجوابی حملہ


عمان/تہران/واشنگٹن، 31 اگست (ہ س)۔

آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں واقع ایران کے لارک جزیرے پر امریکی بمباری کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔ امریکہ نے تقریباً ایک ماہ بعد ایران کے خلاف بڑا حملہ کیا، جس کے بعد ایرانی فوج نے جوابی کارروائی کی۔ حملے میں راکٹ، ڈرون اور میزائل استعمال کیے گئے۔ تازہ فوجی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

الجزیرہ اور سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اتوار کو لارک جزیرے کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اردن میں کنگ حسین اور العَزرق میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ آئی آر جی سی نے حملے میں میزائل اور ڈرون استعمال کیے۔ جولائی کے اواخر کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی میں پہلی مرتبہ اس طرح تیزی دیکھی گئی ہے۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس کے حملوں میں ’’تکنیکی اور مرمتی بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ دشمن کے جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات‘‘ کو بھی تباہ کیا گیا۔ آئی آر جی سی کی جانب سے حملے کا اعلان کیے جانے کے فوراً بعد اردن نے آٹھ میزائلوں کو فضا میں ہی روکنے کی اطلاع دی۔اردن کی فوج نے ایک بیان میں کہا، ’’فضائی دفاعی نظام نے آج پیر کی علی الصباح مملکت کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک دیا۔‘‘ اس دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن کے حملوں میں لَراک جزیرے پر ان لانچروں کو نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز کی جانب بارودی سرنگوں والے علاقے میں راکٹ داغنے کے لیے تیار تھے۔ ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملے میں متعدد ایرانی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ تہران کی مبینہ ناکہ بندی کے باوجود امریکی فوجی تحفظ میں لاکھوں بیرل تیل اس آبی گزرگاہ سے گزرا ہے۔ تاہم ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی بحری راستے سے سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام مکمل کرلیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی جہاز یا کشتی دوبارہ نئی بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرے گی تو اسے فوری طور پر تباہ کردیا جائے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’امریکی فوج اس علاقے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارت کے بلاتعطل بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔‘‘

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک مجوزہ انتظام پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ قطر سمیت خطے کے دیگر ثالثوں نے بھی ان مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں مستقبل کی بحری نقل و حرکت کو واشنگٹن کے ساتھ وسیع تر مذاکرات اور خطے میں سلامتی کی صورت حال سے جوڑا جائے گا۔اتوار کا امریکی حملہ 29 جولائی کے بعد ایران کے خلاف واشنگٹن کی پہلی فوجی کارروائی ہے۔

دریں اثنا، اتوار کو عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اس خبر کے بعد دیکھا گیا کہ امریکہ نے ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ حملہ کیا ہے۔بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد بڑھ کر 90.57 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 85.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande