
ٹورنٹو (کینیڈا)، 31 اگست(ہ س)۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت کی بنیادی ثقافت دنیا کی مدد کرنے اور اس کے اتحاد میں مضمر ہے۔ ہندوستانی روایت نے ہمیشہ تنوع کو اتحاد کی فطری شکل کے طور پر دیکھا ہے۔ انہوں نے یہ خیالات یہاں منعقدہ ’’ہندو وشو بندھو-دوستی میں دنیا کو اپنائیں‘‘ پروگرام میں اظہار کیے۔ ’کینیڈین ہندوز فار آؤٹ ریچ، ریلیشنز اینڈ ڈائیلاگ‘ کے زیر اہتمام اس پروگرام کا آغاز ثقافتی پروگرام پیش کرکے کیا گیا۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر بھاگوت نے خدمت اور فلاحِ انسانیت کی ہندوستانی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’جب بھی دنیا میں کہیں سے بھی بھارت سے مدد مانگی گئی، اس نے کبھی انکار نہیں کیا۔ یہی نہیں، بھارت نے بغیر مانگے بھی مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ یہی ہماری روایت ہے۔ یہی بھارت کا ڈی این اے ہے۔ اسی لیے آپ نے یہ کہاوت سنی ہوگی کہ ’اگر ہندو بیدار ہوتے ہیں تو دنیا بیدار ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے اپنے خیالات کے ذریعے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت کی روحانی میراث انسانیت اور فطرت کے درمیان اتحاد کو فروغ دیتی ہے۔
ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ ہندوستانی روایت میں جاندار اور بے جان، دونوں کو اپنا سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کو تنوع میں اتحاد دیکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسی لیے بھارت میں تنوع کبھی اتحاد کے لیے مسئلہ نہیں بنتا۔ ہماری روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ صرف تنوع میں اتحاد ہی نہیں بلکہ تنوع خود اتحاد کی ایک شکل ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے قدیم ہندوستانی تصور ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنے کے نظریے کو اپنانے کی اپیل کی۔
سنگھ سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی علم ظاہری اختلافات سے بالاتر ہوکر انسانیت کی پوشیدہ روحانی وحدت کو پہچاننے میں ہے۔ جو لوگ کشادہ ذہن اور غوروفکر کرنے والے ہیں، وہ ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ کے تصور کو اپناتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ پوری زمین ایک خاندان ہے۔انہوں نے کہا، ’’مادی دنیا میں لوگ جسم، قد، رنگ اور شکل و صورت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم سب ایک ہیں۔ اسی لیے دوسروں کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہمیں یہ علم حاصل ہوا ہے اور یہ ہمیں ہمیشہ خوشی اور اطمینان فراہم کرتا ہے۔‘‘
سرسنگھ چالک ڈاکٹر بھاگوت نے یہ بھی بتایا کہ بھارت اپنے مزاج اور کردار کی وجہ سے ’’وشو گرو‘‘ بنا، نہ کہ محض ایک بڑی طاقت۔ انہوں نے کہا، ’’کوئی بھی اس وقت بھارت کو مہاشکتی کہہ سکتا تھا، لیکن وہ مہاشکتی نہیں تھا۔ اس نے دنیا کی خدمت کی۔ اپنے کردار کی وجہ سے وہ وشو گرو بنا، مہاشکتی نہیں۔ اس لیے بھارت کے عروج کا مطلب زیادہ اتحاد اور زیادہ انسانیت ہے۔‘‘
انہوں نے یاد دلایا کہ ہمارے آباؤ اجداد کا مقصد دنیا کو علم اور تہذیب کی اقدار سے روشناس کرانا تھا۔ ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ بہت پہلے، جب سڑکیں، کشتیاں، ہوائی جہاز یا موٹر گاڑیاں نہیں تھیں اور صرف بیل گاڑیاں اور گھوڑے سفر کا ذریعہ تھے، اس وقت بھی ہمارے آباؤ اجداد میکسیکو سے سائبیریا تک گئے اور لوگوں تک علم پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پیدل ہمالیہ عبور کرکے چین، سائبیریا اور منگولیا گئے، جبکہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے جنوب مشرقی ایشیا تک پہنچے۔ ’’سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے کسی ملک پر قبضہ نہیں کیا، کسی کا مذہب تبدیل نہیں کیا۔ وہ جہاں بھی گئے، وہاں علم پہنچایا۔ علمِ نجوم دیا، آیوروید دیا اور تہذیبی اقدار کی تعلیم دی۔‘‘
اس پروگرام میں ڈاکٹر موہن بھاگوت کے ساتھ کینیڈا کے سابق وزیر دفاع اور البرٹا کے سابق پریمیئر جیسن کینی نے بھی اسٹیج شیئر کیا۔ کینی نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار کی تعریف کی۔انہوں نے کہا، ’’کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں نئی رفتار دیکھنا بہت خوش آئند ہے۔ اس کا احساس اس سال کے آخر میں وزیراعظم نریندر مودی کے کینیڈا کے دوسرے دورے سے بھی ہوگا۔‘‘
اس سے قبل ٹورنٹو پہنچنے پر سنگھ سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ پورے کینیڈا سے ہندو برادری کے لوگ ان کے استقبال کے لیے جوش و خروش کے ساتھ پہنچے۔ انہوں نے ڈاکٹر بھاگوت کے دورے کو امن، ثقافتی اقدار اور عالمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم موقع قرار دیا۔
استقبال کے لیے پہنچنے والے رائل کینیڈین ایئر فورس کے سابق افسر کارتک ترویدی نے کہا کہ انہیں اپنی ہندو شناخت پر فخر ہے اور انہوں نے 15 سال تک کینیڈا کی خدمت کی ہے۔گریٹر ٹورنٹو ایریا ہندو سبھا مندر کے راجندر پرساد نے کہا کہ سنگھ سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت کا دورہ ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ کا پیغام دیتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan