رواں سال شمالی بحری راستے پر کارگو ٹریفک میں 15 فیصد اضافہ: چیکونکوف
ماسکو، 31 اگست (ہ س/ریا نووستی)۔ روس کے شمالی بحری راستے (این ایس آر)پر کارگو ٹریفک میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ روس کے مشرق بعید اور آرکٹک خطے کی ترقی کے وزیر الیکسی چیکونکوف نے ایسٹرن اکنامک فورم (ای ای ایف) 2026 سے قبل ریا نووستی کو دیے
رواں سال شمالی بحری راستے پر کارگو ٹریفک میں 15 فیصد اضافہ: چیکونکوف


ماسکو، 31 اگست (ہ س/ریا نووستی)۔ روس کے شمالی بحری راستے (این ایس آر)پر کارگو ٹریفک میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ روس کے مشرق بعید اور آرکٹک خطے کی ترقی کے وزیر الیکسی چیکونکوف نے ایسٹرن اکنامک فورم (ای ای ایف) 2026 سے قبل ریا نووستی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 2026 کے تقریباً آٹھ ماہ کے دوران اس راستے سے 2 کروڑ 42 لاکھ ٹن کارگو منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس مدت میں سالانہ بنیاد پر کارگو ٹریفک میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

چیکونکوف نے کہا کہ شمالی بحری راستے پر رواں سال مال برداری میں اضافے کا رجحان مثبت ہے۔ تقریباً آٹھ ماہ کے دوران کارگو ٹرانسپورٹ میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب تک 24.2 ملین ٹن سامان اس راستے سے منتقل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران شمالی بحری راستے پر شپنگ کا حجم تقریباً 10 گنا بڑھا ہے۔ سال 2025 میں اس راستے سے مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ ٹن مال منتقل کیا گیا تھا۔

شمالی بحری راستہ روس کے شمالی ساحل کے ساتھ واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس راستے میں روسی جہاز مالکان کے ساتھ ساتھ غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کی دلچسپی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔اس بحری راستے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندری تجارت کے لیے نسبتاً مختصر راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر اور خلیج فارس میں سلامتی سے متعلق صورتحال کے باعث بھی شمالی بحری راستے کی اہمیت ایک متبادل بحری گزرگاہ کے طور پر بڑھ گئی ہے۔

چار روزہ ایسٹرن اکنامک فورم(ای ای ایف) 2026 یکم سے 4 ستمبر تک روس کے شہر ولادی ووستوک میں منعقد ہوگا۔ فورم میں روس کے مشرق بعید کی ترقی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande