
بھوپال، 31 اگست (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے رہائشی علاقوں میں رہائشی عمارتوں کے اندر چلائی جانے والی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف میونسپل کارپوریشن آج پیر سے بڑی کارروائی شروع کرنے جا رہا ہے۔ کارپوریشن کی ٹیمیں پولیس کی موجودگی میں نشان زد اداروں کو سیل کرنے کی کارروائی کریں گی۔ اتوار کو متعلقہ اداروں پر 24 گھنٹے کے آخری نوٹس چسپاں کیے گئے۔ پیر کو شہر کے چھ اہم مقامات پر کارروائی کی تجویز ہے۔
کارروائی کے دوران امن و قانون کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مسرود، حبیب گنج، راتی بڑ، کوہِ فضا، گووندپورہ، عیش باغ اور کولار تھانہ علاقوں سے پولیس فورس تعینات کی جائے گی۔ کارپوریشن نے 26 اگست تک رہائشی عمارتوں میں تجارتی سرگرمیوں سے متعلق مجموعی طور پر 8264 نوٹس جاری کیے تھے۔ نوٹسوں کی جانچ اور موقع پر تصدیق کے بعد اب کارروائی کا مرحلہ شروع کیا جا رہا ہے۔
کارپوریشن کی کارروائی کے تحت وارڈ نمبر 58 کے گوتم نگر میں ایک رہائشی عمارت میں چلائے جا رہے ہوٹل کو پہلے ہی سیل کیا جا چکا ہے۔ افسران کے مطابق نوٹسوں کی جانچ اور متعلقہ عمارتوں کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی عمل کے بعد دیگر اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
رہائشی عمارتوں کے تجارتی استعمال اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد میونسپل کارپوریشن نے کارروائی تیز کردی ہے۔ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی 10 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی کارروائی پر روک لگائی تھی۔ اس کے علاوہ اس معاملے میں ہائی کورٹ کی جانب سے دکان چلانے والوں کو دی گئی راحت سے متعلق احکامات کو بھی منسوخ کردیا تھا۔
سپریم کورٹ نے تحقیقاتی عمل میں مداخلت نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 15 ستمبر کو ہونے کی تجویز ہے۔ اس سے قبل میونسپل کارپوریشن کو اپنی کارروائی کی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ اسی کے پیش نظر نوٹس، سروے اور سیلنگ کی کارروائی میں تیزی لائی گئی ہے۔سیلنگ کی کارروائی میں سختی کے بعد رہائشی عمارتوں میں کاروبار کرنے والے دکانداروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ اودھ پوری، ایودھیا بائی پاس، گوتم نگر، اشوکا گارڈن اور لال گھاٹی سمیت کئی علاقوں میں نوٹس ملنے کے بعد کچھ کاروباری افراد تجارتی علاقوں میں متبادل دکانیں تلاش کر رہے ہیں۔اربن پلاننگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں رہائشی اور تجارتی علاقوں کی واضح منصوبہ بندی ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ماسٹر پلان اور لینڈ یوز کا مؤثر تعین کیا جاتا تو رہائشیوں اور کاروباری افراد کو موجودہ صورت حال کا کم سامنا کرنا پڑتا۔
رہائشی علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کے بڑھنے سے شور، بھیڑ اور ٹریفک جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی علاقوں میں عوامی سکون اور سلامتی کو لے کر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔اسکولوں کے آس پاس بڑھتے ٹریفک کے باعث بچوں کی حفاظت کو لے کر بھی رہائشی سوال اٹھا رہے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ کارروائی قواعد اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کی جائے گی اور نشان زد عمارتوں کی صورت حال کی جانچ کے بعد ہی سیلنگ کی کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan