بھارت اور ازبکستان کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دینے کا اعلان
نئی دہلی، 30 اگست (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس سال اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کی 15ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور اس خصوصی موقع پر دونوں
بھارت اور ازبکستان کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دینے کا اعلان


نئی دہلی، 30 اگست (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس سال اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کی 15ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور اس خصوصی موقع پر دونوں ملکوں کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا جائے گا۔ اس کے تحت ٹھوس اہداف مقرر کرکے دو طرفہ تعاون کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیر اعظم نے جوہری توانائی کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورینیم کی فراہمی کے لیے بھارت اور ازبکستان کے درمیان طویل مدتی انتظام کیا جائے گا۔مذاکرات کے ابتدائی خطاب میں وزیر اعظم نے دو طرفہ اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے اہم شعبوں میں منصوبوں کی نشاندہی اور ان کے لیے مقررہ مدت طے کرنے کی پہل کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک مل کر اس سمت میں جلد پیش رفت کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے مشترکہ کمیشن کی سطح کو سکریٹری کی سطح سے بڑھا کر وزارتی سطح پر کیا جائے گا، جس سے دو طرفہ تعاون کو زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تین سسٹر سٹی اور سسٹر اسٹریٹ انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان انتظامات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں فریقوں کو ایک روڈ میپ تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مل کر ایک تجارتی سربراہی اجلاس بھی منعقد کریں گے، جس میں دونوں ملکوں کے کاروباری رہنما شرکت کریں گے۔ اس سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ازبکستان کے نیو تاشقند میگا پروجیکٹ اور گجرات کی گفٹ سٹی کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو خوشی ہوگی اگر ازبکستان کا ایک وفد گجرات کا دورہ کرے اور وہاں بہترین طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا مطالعہ کرے۔ وزیر اعظم نے یکم ستمبر کو منائے جانے والے ازبکستان کے یوم آزادی کی 35ویں سالگرہ پر صدر مرزیایوف اور عوام کو پیشگی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔

دوسری جانب ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان کثیر جہتی تعاون کو آگے بڑھانے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور ازبکستان آج جامع اسٹریٹجک شراکت داری سے متعلق مشترکہ بیان جاری کریں گے، جس سے تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی نئی راہ ہموار ہوگی۔انہوں نے بھارت کی اقتصادی ترقی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خلائی شعبے اور دیگر میدانوں میں پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے عالمی امور میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اجاگر کیا۔ صدر مرزیایف نے کہا کہ بھارت ازبکستان کا ایک قابل اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت پہلی بار ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مشترکہ منصوبوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہفتہ وار براہ راست پروازوں، بھارتی ثقافتی مراکز اور یوگا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا بھی ذکر کیا۔ بھارتی شہریوں کے لیے ویزا فری سہولت کو انہوں نے سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کے فروغ میں اہم قرار دیا۔قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی 29 اور 30 اگست کو تاشقند کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ازبکستان کا یہ وزیر اعظم کا چوتھا دورہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande