
شملہ، 30 اگست (ہ س)۔ پہاڑوں میں ہو رہی بارش نے 120 سال سے زیادہ پرانی کالکا-شملہ ہیریٹیج ریلوے لائن کی رفتار ایک بار پھر روک دی ہے۔ سولن ضلع میں کوٹی اور گمّن ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پل نمبر 57 کے قریب ٹریک کے آس پاس کی مٹی بہہ گئی۔ اس سے پٹری کے نیچے کی زمین کھل گئی اور ریل پٹری کا ایک حصہ ہوا میں جھولنے لگا۔ ٹریک کی حفاظت کے پیش نظر ریلوے نے اس ریلوے سیکشن پر نیرو گیج ٹرینوں کی آمدورفت روک دی ہے۔ اتوار کو کالکا-شملہ کے درمیان چلنے والی تمام 10 ٹوائے ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں۔
شملہ ریلوے اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ سنجے گیوار نے ٹرینوں کی منسوخی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پل نمبر 57 کے قریب مٹی بہنے کے بعد ٹریک کی حفاظت متاثر ہوئی ہے۔ مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر ریل سروس معطل کی گئی ہے۔ ریلوے کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق اتوار کو کالکا سے شملہ جانے والی ٹرین نمبر 52451، 52459، 52455، 52453 اور 52457 نہیں چلیں گی۔ اسی طرح شملہ سے کالکا جانے والی 52452، 52460، 52456، 52454 اور 52458 بھی منسوخ رہیں گی۔ ٹریک کی جانچ اور ضروری حفاظتی کام مکمل ہونے کے بعد ہی سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ٹرینیں منسوخ ہونے سے پہلے ہی ٹکٹ بک کرا چکے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی مسافروں نے ٹوائے ٹرین کے سفر کے لیے اپنی سیاحت کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اچانک سروس بند ہونے سے انہیں اپنا پروگرام تبدیل کرنا پڑا۔ کالکا اور شملہ کے درمیان آمدورفت کرنے والے مسافروں کو سڑک کے راستے کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اتوار کو اس کا اثر شملہ ریلوے اسٹیشن پر بھی نظر آیا۔ عام دنوں میں سیاحوں اور مسافروں کی چہل پہل سے بھرا رہنے والا اسٹیشن نسبتاً سنسان نظر آیا۔ ٹوائے ٹرین سروس اس ریلوے لائن سے وابستہ سیاحتی سفر کا اہم حصہ ہے اور اس کے رکنے سے سیاحوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
کالکا-شملہ ریلوے لائن پر اس مانسون میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی بار ٹریفک متاثر ہو چکا ہے۔ کوٹی، گمّن اور تارادوی کے آس پاس ملبہ اور مٹی گرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اگست میں گمّن اور کوٹی کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ایک ٹرین کو کوٹی اسٹیشن پر روکنا پڑا تھا۔ اس میں 172 مسافر سوار تھے۔ مسافروں کو بحفاظت کالکا پہنچانے کے لیے ریلوے نے فوج کی مدد لی تھی اور فوجی گاڑیوں کے ذریعے انہیں سڑک کے راستے کالکا پہنچایا گیا تھا۔ اب پل نمبر 57 کے قریب مٹی بہنے کے واقعے نے بارش کے دوران اس تاریخی ریلوے لائن کی حفاظت کو لے کر ایک بار پھر تشویش بڑھا دی ہے۔
کالکا-شملہ ریلوے تقریباً 96.6 کلومیٹر طویل نیرو گیج ریلوے لائن ہے۔ اس کی تعمیر 1898 میں شروع ہوئی تھی اور 9 نومبر 1903 کو اس پر ریل سروس شروع ہوئی۔ پہاڑوں کے دشوار گزار علاقے سے گزرنے والی اس لائن پر بڑی تعداد میں سرنگیں، پل اور تیز موڑ ہیں۔ یونیسکو نے 10 جولائی 2008 کو کالکا-شملہ ریلوے کو ’ماؤنٹین ریلوے آف انڈیا‘ کے حصے کے طور پر عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یونیسکو کے مطابق اس لائن پر 988 پل اور وایاڈکٹ اور 917 موڑ ہیں۔ اصل میں تعمیر کی گئی 107 سرنگوں میں سے 102 اب بھی موجود ہیں۔ بڑوگ کے قریب تقریباً 1.14 کلومیٹر طویل سرنگ اس ریلوے روٹ کی خاص پہچان ہے۔ پہاڑوں کے درمیان سے گزرنے والی یہ تاریخی ٹوائے ٹرین آج بھی ملک و بیرون ملک کے سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد